ٹیکس ریفامز ورلڈبینک کاجائزہ مشن28 ستمبرکو پاکستان آئے گا

عالمی بینک جائزہ مشن ٹریننگ اور تجزیاتی اسٹڈیز سمیت دیگر طے شدہ ورک پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا، ذرائع


Numainda Express September 25, 2015
عالمی بینک جائزہ مشن ٹریننگ اور تجزیاتی اسٹڈیز سمیت دیگر طے شدہ ورک پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفامز پروجیکٹ کا جائزہ لینے کیلیے عالمی بینک کا جائزہ مشن 28 ستمبر کو پاکستان کے دورے پر آئے گا اور 29ستمبر کو اقتصادی امور ڈویژن میں عالمی بینک جائزہ مشن اور پاکستانی ٹیم کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوگی جس میں ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ برائے ایکسلیریٹ گروتھ اینڈ ریفارمز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق عالمی بینک کا وفد اگست کے آخری عشرے مذاکرات مکمل کرکے واپس گیا تھا اب دوبارہ پاکستان کے دورے پر آرہا ہے اورتوقع ہے کہ اُنتیس ستمبر سے شروع ہونے والے اجلاس میں ایف بی آر کو رپورٹ ارسال کرے گا اور عالمی بینک جائزہ مشن کے ساتھ طے پانے والے معاملات کے تحت نئی آڈٹ پالیسی متعارف کرواکر پچھتہر ہزار سے زائد ٹیکس دہندگان کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جس میں وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار اور تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ کو بھی آڈٹ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اب جو عالمی بینک جائزہ مشن آرہا ہے وہ ٹریننگ اور تجزیاتی اسٹڈیز سمیت دیگر طے شدہ ورک پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی بینک کے جائزہ مشن کے تعاون سے تیار کردہ فیزیبلٹی رپورٹ کی روشنی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ڈیٹا ویئر ہاؤس اور ڈیٹا بینک قائم کرنے کے منصوبے کا پی سی ون تیار کرلیا ہے تاہم عالمی بینک مشن نے پاکستان ریونیو آٹو میشن لمیٹڈ(پرال) کا چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او)ایف بی آرکے کسی ممبر کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے لینے کی تجویز دیدی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے دورے کے دوران عالمی بینک کے جائزہ مشن نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفامز پروگرام(ٹی اے آر جی) کے تحت مختلف ذیلی منصوبوں کے بارے میں اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے تیار کردہ فزیبلٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا ویئر ہاوس اور ڈیٹا بینک قائم کرنے کے منصوبے پر دو کروڑ ڈالر لاگت آئے گی جبکہ ایف بی آر نے چالیس لاکھ ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے جائزہ مشن کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے تحت پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال)میں تمام نئے کمپیوٹرز نصب کیے جائیں گے اور پرال میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نوعیت کا ڈیٹا ویئر ہاوس اور ڈیٹا بینک قائم ہوگا۔

اس کے علاوہ نظام کو انٹیگریٹڈ بنایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعان سے قائم کیے جانے والے اس ڈیٹا ویئر ہاوس کے لیے تمام یوٹیلٹی کمپنیوں، اداروں، موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز، ایئر لائنز، بینکوں، نادرا، ایکسائز ڈپارٹمنٹ و دیگر وفاقی وصوبائی اداروں سے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ڈیٹا کی مدد سے ایف بی آر کو ٹیکس سے باہر لوگوںکو ٹیکس نیٹ میں لانے اور لوگوں کی آمدنی و اخراجات کی تفصیلات کے حصول میں مدد ملے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے سسٹم کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکسوں کے نظام کو انٹیگریٹڈ بنایا جائے کیونکہ اس وقت تک تو نظام ہے وہ انٹیگریٹد نہیں ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ عالمی بینک جائزہ مشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بغیر سوچے سمجھے اور پیشگی ورکنگ کے سافٹ ویئرز متعارف نہ کروانے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں ایک اعلی سطح کی سافٹ ویئر ایکسپرٹس کی ٹیم تشکیل دی جائے اور سافٹ ویئر کے حوالے سے اسٹینڈر پروسیجر متعارف کروائے جائیں اور ایف بی آر نے اگرکسی بھی قسم کا سافٹ ویئر تیار کرنا ہوتو اس کیلیے مذکورہ سافٹ ویئر کمیٹی کے حوالے کیا جائے اور مذکورہ کمیٹی سافٹ ویئر کیلیے مرتب کردہ معیاری پروسیجرز کی روشنی میں اسکا جائزہ لے کر منظوری دے اور مذکورہ کمیٹی کی منظوری کے بعد سافٹ ویئر تیار کیا جائے تاکہ اس کے نتائج بھی مثبت حاصل ہوسکیں۔

مقبول خبریں