جان کی امان پاؤں

ہم سب نے اپنی نوعمری میں وہ کہانیاں پڑھی ہیں جن میں ایک بادشاہ ہوتا تھا


Zahida Hina October 28, 2015
[email protected]

ہم سب نے اپنی نوعمری میں وہ کہانیاں پڑھی ہیں جن میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ نہایت ظالم و جابر، اس کے وزیر اور امیر بھی اس کے غصے سے تھراتے تھے۔

اس کے باوجود جب اس سے کوئی ناپسندیدہ اور ناخوشگوار بات کہنی ہوتی تو بات کہنے والا پہلے اس سے جان کی امان مانگتا۔ ان کہانیوں کے بادشاہ صرف کتابوں میں پائے جاتے ہیں، جمہوریت کا جہاں راج ہے وہاں سچ بولنے اور لکھنے والے ادیبوں ، صحافیوں اور حقوق انسانی کے لیے سرگرم کارکنوں کو اس طرح کے جملے بولنے یا لکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پاکستان میں بھی جمہوریت ہے لیکن یہ ابھی ایک ایسا نرم و نازک پودا ہے جسے تشدد اور انتہاپسندی کے طوفانوں سے خطرہ ہے۔ ایسے میں ہم جان کی امان بھلا کس سے چاہیں۔

دنیا میں جہاں بھی مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں اگر ان کے ساتھ زیادتی ہوتو ہم چراغ پا ہوجاتے ہیں۔ ایساکرنے والے یقیناً حق بجانب ہوتے ہیں لیکن اس وقت ہمیں یہ بھی یاد کرنا چاہیے کہ بہ طور اکثریت پاکستان میں ہم نے اپنی اقلیتوں کا کیا احوال کر رکھا ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان جب سے قائم ہوا ہے اس وقت سے وہ پاکستان کی تمام برادریوں، مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والوں اور بچھڑی ہوئی ذاتوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کررہا ہے۔

امید تو یہی تھی کہ ہمارے یہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رواداری اور مذہبی وسیع النظری میں اضافہ ہوگا لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ روز بہ روز مذہبی اور مسلکی وسیع القلبی کا دائرہ تنگ ہوتا گیا۔ ملک کے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں مختلف اقلیتوں پر جو مظالم ہوئے ان کی نہ داد، نہ فریاد، اسی بات کے پیش نظر ہیومن رائٹس کمیشن نے جون 2010 میں اپنے عقائد کی بناء پر غیر محفوظ ہوجانے والی برادریوں کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا۔

ملک کے تمام علاقوں سے اقلیتی گروہوں کے نمایندوں کو بلایا گیا۔ اس ورکشاپ میں پاکستان کے مسیحی، سکھ ، ہندو، بہائی ، شیعہ ، ہزارہ شیعہ، 1974 میں اسلام کے دائرے سے خارج کردیے جانے والے، پارسی اور بدھ مت کے نمایندے شامل ہوئے۔ ان لوگوں کے علاوہ فلپائن، انڈونیشیا، فلسطین اور کئی دوسری بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے۔ 2010سے 2015 کے درمیان ان گروہوں اور بین الاقوامی مبصرین کے درمیان جو گفت و شنید ہوئی، جو صورت حال سامنے آئی، وہ ایک رپورٹ کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنی صورت نظر آتی ہے۔ ہم جب اپنی اس شکل کو دیکھتے ہیں تو خو د اپنے آپ سے شرماتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بات صراحت سے بیان کی گئی ہے کہ ''پاکستانی حکام گزشتہ کئی عشروں سے اقلیتوں کو عقیدے کی بنیاد پر ہونے والے تشدد سے مناسب تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب کبھی حکومت نے عقیدے کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے وعدے کیے بھی تو ان کی پاسداری کرنے میں ناکام رہی۔ 2009 میں پنجاب کے علاقے گوجرہ میں مسیحی مخالف تشدد کا واقعہ پیش آیا۔

جس میں ان کے گھروں کو آگ لگائی گئی اور چار خواتین اور ایک بچے سمیت آٹھ کو قتل کیا گیا۔کسی کو بھی آٹھ افراد کے قتل کرنے یا گھروں کو آگ لگانے کے جرم کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا اور واقعے کے پانچ برس بعد بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مجرموں کو کبھی بھی سزا نہیں مل سکے گی۔ پاکستان میں عقیدے کے باعث سرزد ہونے والے جرائم کے خلاف انصاف کے حصول میں جو مشکلات حائل ہیں ان کی ایک نمایاں مثال سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی ہے۔

ذرایع ابلاغ میں تعصبات اور رجعت پسندی بھی پائی جاتی ہے۔ ذرایع ابلاغ میں ہندوؤں کو ہندوستان کے ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ٹیلی وژن کے پروگراموں اور فلموں میں ہندوؤں کو موقع پرست، سود خور اور غیر محب وطن افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مسیحیوں کو مغرب کا ایجنٹ کہا جاتا ہے اور اردو اخبارات میں کچھ کو یہودی ایجنٹ، پاکستان کے غیر وفادار اور اسلام کا دشمن کہا جاتا ہے۔ ریاست ان کمیونٹیوں کو اس قسم کی ہتک اور خوف و ہراس سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اس کی توقع کی جاتی ہے کہ بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ گھلنے ملنے، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنے کی تعلیم دی جائے گی لیکن افسوس کہ اس میں بھی پاکستان کا تعلیمی نظام اپنے مواد کے لحاظ سے اور اقلیتی افراد کی تعلیم تک رسائی کے حوالے سے امتیازی نوعیت کا حامل ہے۔ اسکولوں کے نصاب میں اقلیتوں کی جس قسم کی کردار کشی کی گئی ہے اس سے معاشرے میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کی ہوا ملی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 22 میں کہا گیا ہے ''کسی طالبعلم کو اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کا مطالعہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا'' تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران حکومت نے اسلامیات کے علاوہ دیگر مضامین خاص طور پر انگریزی اردو اور ادب کی کتب میں اسلامی حوالہ جات میں اضافہ کیا ہے، مثال کے طور پر اردو کی جماعت اول کی کتاب ''میری کتاب'' کے 43 اسباق میں سے 16 اسلامی تعلیمات کے فروغ سے متعلق ہیں حالانکہ یہ کتاب غیر مسلم طلباء کو بھی پڑھائی جاتی ہے۔ مزید برآں، سائنسی ایجادات کی تاریخ پڑھاتے وقت نصاب میں صرف مسلمان سائنسدانوں پر زور دیا جاتا ہے۔

ان اہم معاملات کے علاوہ اس رپورٹ میں جبری شادیوں اور جزیہ ایسے معاملات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ اس بارے میں عام پاکستانی کچھ نہیں جانتے۔ 2013 میں خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے کی اقوام متحدہ کی کمیٹی نے پاکستان میں جبری شادیوں اور مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان جرائم کو جائز قرار دینے کے لیے مذہبی قوانین کا سہارا لینے کے عمل کی بھی مذمت کی تھی۔

سماجی امتیازی سلوک اس حد تک ہے کہ ذرایع ابلاغ نے مسیحی لڑکیوں کے قبولِ اسلام اور مسلمان مردوں کے ساتھ شادی کی خبروں کو انتہائی مثبت انداز میں پیش کیا جب کہ ان ہی دنوں مسیحیوں کے گھروں پر مشتعل مسلمانوں کے ایک ہجوم کے حملے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئیں جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مسیحی مرد ایک مسلمان عورت کے ساتھ شادی کا خواہشمند تھا۔

سکھوں کو درپیش ایک بڑا امتیازی مسئلہ جزیہ کی ادائیگی کا ہے۔ جزیہ ایک فیس ہے جو اقلیتوں کو اپنے عقیدے پر عملدرآمد کرنے، سماجی خودمختاری سے مستفید ہونے اور بیرونی جارحیت سے مسلمانوں کے تحفظ کا مستحق بننے کے عوض ادا کرنا پڑتی ہے۔

پاکستان میں سکھوں کے علاوہ کسی اور اقلیتی کمیونٹی کو غیر ریاستی عناصر (شدت پسند) کو یہ فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایسی کئی اطلاعات منظر عام پر آئیں جن کے مطابق متعدد سکھوں کو جزیہ ادا نہ کرنے کی پاداش میں کھلے عام قتل کردیا گیا۔ سکھ کمیونٹی کے کئی نمایندوں کے مطابق، کئی گروہ ان سے جزیہ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر سکھوں کو پشاور جانا پڑے تو انھیں منگل باغ کو جزیہ دینا پڑتا ہے اگر انھیں مالا کنڈ جانا پڑے تو انھیں فضل اللہ کو جزیہ ادا کرنا پڑے گا، اسی طرح دیگر مقامات کے لیے دیگر گروہوں کو، جزیہ کی رقم دی جاتی ہے جو عموماً 25.000 روپے فی کس ہے''۔

وہ تمام پاکستانی جو مذہب، مسلک، رنگ، نسل، صنف یا اور کسی بنیاد پر خود کو دوسرے پاکستانیوں سے افضل نہیں سمجھتے، ان کے لیے یہ مختصر سی رپورٹ شدید تکلیف کا سبب ہے۔ رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہاگیا ہے کہ ''پاکستانی حکام مساوات، وقار، قانون کی حکمرانی اور تمام پاکستانیوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہیں۔ چنانچہ وہ ملک میں سیاسی وشہری حقوق کے بین الاقوامی معاہدے، معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے، نسلی امتیازات کے خاتمے کے معاہدے، بچوں کے حقوق کے معاہدے اور خواتین کے خلاف امتیازات کے خاتمے کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمے دار ہیں۔''

انتہا پسندی اور متشدد رویوں نے جس طرح عام پاکستانیوں کو ہراساں اور حیران کیا ہے، اس کا پاکستان بنتے ہوئے تصور بھی محال تھا۔ ہم جب ایسی رپورٹوں میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں تو تھرّا جاتے ہیں۔ ہم ایسے تو ہرگز نہیں، پھر یہ کون ہیں جنہوں نے اسلام اورشریعت کے نام پر ہمارا چہرہ مسخ کردیا ہے اور ہر اس فرد کے درپے ہیں جو اس پاکستان کی بات کرتا ہے جس کا تصور بانی پاکستان نے پیش کیا تھا اور اسی کی علامت ہمیں پاکستانی پرچم کی سفیدی میں نظر آتی ہے۔ جان کی امان پاؤں تو کچھ اور بھی عرض کروں لیکن امان ملے تو سہی۔

مقبول خبریں