موت کے محاصرے میں
مضایا پر باغیوں کا قبضہ ہے اور یہ شامی افواج اور حزب اللہ کے لڑاکوں کے محاصرے میں ہے
LARKANA:
بڑی بڑی کڑھائیوں میں مچھلیاں اور جھینگے تلے جارہے ہیں، دہکتے ہوئے کوئلوں پر مرغ کی رانیں اور بوٹی کباب سینکے جارہے ہیں۔ کبابچیوں کے سروں پر دھواں منڈ لارہا ہے، سنکتے ہوئے گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو چاروں طرف پھیل رہی ہے اور میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے مہمانوں کی بھوک کو تیز کررہی ہے۔ اور پھر مودب خدام مہمانوں کے سامنے مچھلی، تکے اور بوٹی کباب کی قابیں رکھتے ہیں۔ ہم اور ہمارے مہمان جنہوں نے صبح کا ناشتا رج کے کیا ہے، دوپہر کے کھانے سے خوب انصاف کیا ہے، شام کی چائے پر بھی سموسوں اور بسکٹوں سے لطف اٹھایا ہے، وہ تیزی سے ان قابوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کی پلیٹوں میں کانٹوں اور ہڈیوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
چند سخی میزوں کے اردگرد منڈ لاتی ہوئی بلیوں کو دیکھتے ہیں ''بھئی یہ بھی تو کچھ کھائیں'' وہ کہتے ہیں اور ادھ کھائی ہوئی بوٹیاں ان کی طرف پھینک دیتے ہیں۔ وہ انھیں چبانے لگتی ہیں۔ ہم لوگ گھروں کو جائیں گے اور سونے سے پہلے ٹیلی وژن لگائیں گے۔ ریموٹ کو گھماتے ہوئے اور خبروں سے دامن بچاتے ہوئے ایشوریا رائے کی 'دیوداس' اور سلمان خان کی 'دبنگ' دیکھیں گے اور گنگناتے ہوئے سوجائیں گے کہ بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے۔
ان سے چند سومیل کے فاصلے پر تھر ہے جہاں ناکافی غذا اور بیماری کے سبب بچے مچھر اور مکھیوں کی طرح ہلاک ہورہے ہیں اور ان سے چند ہزار میل کے فاصلے پر ملک شام ہے، جہاں 2011ء سے اب تک لاکھوں جنگ میں مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے، ہزاروں پناہ کی تلاش میں کشتیوں میں سوار ہوئے اور سیکڑوں ڈوب گئے، ہزاروں بھوک سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ دمشق سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر چھوٹا سا پہاڑی شہر مضایا ہے۔ 6400 فٹ کی بلندی پر یہ شہر نومبر دسمبر سے اب تک شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ دوران جنگ اس نے پانچ موسم سرما گزارے ہیں۔ شہر میں پہلے کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوئی اور پھر نایابی کا مرحلہ آیا۔ منافع خوروں نے دس روپے کی چیز ہزار روپے میں بیچنی شروع کی۔ لوگوں نے گھروں کا سامان کوڑیوں کے مول بیچا پھر بھی اپنے بچوں کا پیٹ نہ بھر سکے۔
مضایا پر باغیوں کا قبضہ ہے اور یہ شامی افواج اور حزب اللہ کے لڑاکوں کے محاصرے میں ہے۔ یہ محاصرہ دشمن کی فوجوں نے نہیں کیا۔ شامی فوجیں جو اپنے شہریوں کی حفاظت کی تنخواہ لیتی ہیں، انھوں نے ہی مضایا اور زبدانی اور دوسرے شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ شہر والے جان بچانے کی خاطر یا کھانے کی تلاش میں چھپتے چھپاتے رات کے اندھیرے میں کہیں نکل نہ جائیں اس خدشے سے سرکاری فوجوں نے مضایا کے اردگرد بارودی سرنگیں بچھا دیں ۔ بہت سے لوگ جنہوں نے اپنے بچوں کے لیے دودھ یا دوا کی تلاش میں شہر سے نکلنے کی کوشش کی وہ ان بارودی سرنگوں کا نوالہ بنے، کچھ جان سے گئے اور کچھ عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔
وہ تنظیم جو سرحدوں سے ماورا ڈاکٹر کہلاتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحدوں کے قریب امدادی سامان لے کر آنے والے قافلے 11 جنوری کو مضایا پہنچ چکے، اس کے بعد بھی 16 افراد فاقے اور دواؤں کی نایابی کے سبب ہلاک ہوچکے۔ اس عالمی تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل برداشت ہے کہ لوگ فاقے سے مر رہے ہوں اور یہ بھی کہ وہ لوگ جنھیں ہفتوں پہلے شہر سے نکال کر ان کا اسپتال میں علاج ہونا چاہیے تھا، وہ ابھی تک محاصرے کی حالت میں اس شہر میں ہیں اور لحظہ لحظہ مررہے ہیں۔
محاصرہ کرنے والے، محاصرے میں بمباری، گولی اور بھوک سے ہلاک ہونے والے سب مسلمان۔ انھیں مسلم امہ کہا جاتا ہے۔ اقبال اپنی قبر میں تڑپ جاتے ہیں 'وہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی آواز میں پوچھتے ہیں'۔ کیا میں نے ان ہی لوگوں کے لیے کہا تھا۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔ وہ جو پاسبان حرم ہیں ایک رات میں لاکھوں ڈالر مغربی قمار خانوں میں ہار جاتے ہیں۔ وہ کہاں ہیں کہ ان کے دینی بھائی بھوک سے ہلاک ہورہے ہیں۔ الجزیرہ ٹیلی وژن ہمیں خبر دیتا ہے کہ 20 لاکھ شامی محاصرے میں ہیں، کچھ علاقوں کا محاصرہ سرکاری افواج نے کیا ہے اور کچھ مخالف گروہوں نے، چیک پوائنٹ پر دودھ، کھانے پینے کی اشیا اور دوائیں روک لی جاتی ہیں۔ بچوں کے ہونٹوں پر پپڑیاں ہیں اور دودھ نایاب ہے۔ دوائیں ناپید ہو چکیں۔
مضایا وہ بستی ہے جہاں صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ دو یا دس ہوتے تو وہ کیا تیر مار لیتے۔ گھر والوں کی بھوک جب ناقابل برداشت ہوجاتی ہے تو لڑکے اور لڑکیاں گھروں کے باہر اگی ہوئی گھاس کاٹتے ہیں اور انھیں ابال کر کھلاتے اور کھاتے ہیں۔ پیڑوں کی پتیاں بہت پہلے کھائی جا چکیں۔ 'بلی، کتے، چوہے انسانوں کا نوالہ بنے' شہر 6 مہینے سے محاصرے میں ہے۔ اس کے بہت لوگ صرف پانی اور نمک پر زندہ ہیں۔ چند دنوں پہلے جب پہلا امدادی قافلہ پہنچا تو گودا جمادینے والی سردی میں بچے قطار میں کھڑے تھے۔ امدادی کارکن اس وقت پھوٹ پھوٹ کر روئے جب ان بھوکے بچوں نے کہا کیا آپ ہمیں ایک بسکٹ دے سکتے ہیں؟
مضایا کا عمار قانون پڑھتا تھا لیکن اب قانون کی کتابیں گھر میں دھری ہوئی ہیں۔ اس نے الجزیرہ کی نامہ نگار سامعہ کلاب کے ذریعے دنیا کو ایک خط بھیجا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہ محاصرے میں آئے ہوئے اس شہر کے ایک خوبصورت اور پُرامن محلے میں پیدا ہوا جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ اس کا محلہ مضایا کے مرکز میں تھا۔ محاصرہ شروع ہوا تو اس کا خاندان بھی ان ہی عذابوں سے گزرا جن سے دوسرے خاندان گزر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کو دو اور تین دن ایک نوالہ نصیب نہیں ہوتا۔
وہ ایک نوجوان مرد ہوتا تھا لیکن اب اس کا وزن 50 کلو سے کم ہوچکا ہے اور کبھی کبھی تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خواب میں زندگی بسر کررہا ہے جس سے ابھی آنکھ کھل جائے گی۔ اس نے بھوک سے بچوں کو مرتے دیکھا اور وہ کچھ نہ کرسکا۔ وہ دمشق یونیورسٹی میں قانون پڑھتا تھا، اس کے ساتھیوں کے اور اس کے سامنے ایک روشن مستقبل تھا۔ وہ پوچھتا ہے، اب کون سا مستقبل، کون سی زندگی۔
شام میں جب 2011میں بشارالاسد کی آمریت سے نجات کے لی انقلاب شروع ہوا تو کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ اس انقلاب کی وہ سب کیسی بھیانک قیمت ادا کریں گے۔ لوگ سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے، وہ اپنی آزادیاں مانگ رہے تھے۔ اس کے ساتھی طلبہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور پھر حکومت نے مظاہرین پر گولیاں برسانی شروع کردیں، اور سیکڑوں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ نتیجے میں عوام نے بھی ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ ناکافی اور بڑی حد تک ناکارہ تھے پھر بھی ہتھیار تو تھے۔ مزاحمت شروع ہوئی تو نومبر 2014میں بشارالاسد کی حکومت نے اپنی حکمت عملی بدل دی۔ اب لوگوں پر بمباری ہونے لگی۔ مضایا اور دوسرے شہروں کا محاصرہ شروع ہوا۔
اس محاصرے کا مقصد لوگوں کو بھوک کے ہتھیار سے ہلاک کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے تلخ لہجے میں کہا کہ شام کے محصورین کے خلاف بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور یہ جنگی جرم ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ شام میں جن لوگوں نے اس ہتھیار کو چند مہینوں کے بچوں سے 70 اور 80 برس کے بوڑھوں کے خلاف استعمال کیا، ان پر انصاف کی عالمی عدالت میں مقدمہ کب چلے گا۔ ہم نہیں جانتے ۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کبھی سزا کو پہنچیں گے بھی یا نہیں۔
مضایا اور وہ دوسرے شہر جو محاصرے میں ہیں، وہاں بجلی نہیں، پانی کم یاب ہے، کھانا اور دوائیں نایاب۔ بوسینا، افغانستان ، رونڈا، فلسطین، شام ہر جگہ کی یہی کہانی ہے۔ اعرابی ہمدان وہ شخص ہے جو ڈیرہ میں رہتا تھا جہاں حکومت کے خلاف سب سے پہلا مظاہرہ ہوا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے نگر سے دھکیلا جا چکا، اب مہاجرین کے ایک کیمپ میں رہتا ہے اور اس کی بیوی دوسرے کیمپ میں ہے۔ وہ سراپا احتجاج اور اشتعال ہے۔ 'یہ حکمرانوں کا اور طاقت وروں کا کھیل ہے۔ ایک خونی کھیل جس میں ہمارے بچے اپنی ٹانگوں، ہاتھوں، آنکھوں اور سروں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیوں؟' اسے کون سمجھائے کہ یہ کھیل طاقتوروں نے اور حکمرانوں نے ہمیشہ سے کھیلا ہے لیکن بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں یہ کھیل اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
دنیا بھر میں بکھرے ہوئے کچھ لوگ ہیں جو اپنی بساط بھر اس انسانی المیے سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں، چھپ چھپ کر روتے ہیں اور سردی سے ٹھٹھرنے والوں کو کمبل اوڑھاتے ہیں ، بیماروں کو دوا پہنچاتے ہیں، بھوکے بچوں کو چمچہ چمچہ سوپ اور عرق پلاتے ہیں،آستین سے آنسو خشک کرتے ہیں اور ڈاتی خوشیوں اور آرام کو تہہ کرکے طاق پر رکھ دیتے ہیں۔ ان ہی کے وجود سے آفت کے ماروں کے دلوں میں امید کا چراغ جلتا ہے۔ وہ روشن چراغ جس کی کوئی قومیت، کوئی مذہب، مسلک اور صنف نہیں۔ اب یہ انتخاب ہمارا ہے کہ ہم تجمل حسین خان بنیں یا روشن چراغ۔