خطرناک سانپ اور پتھر کی مومیائی

کیا کیا جائے، پرانے لطیفے نہ دہرائیں تو لاچار کیا کریں کیونکہ ’’نئے لطیفے‘‘ جو سیاسی کھیت میں اگ رہے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq May 04, 2016
[email protected]

کیا کیا جائے، پرانے لطیفے نہ دہرائیں تو لاچار کیا کریں کیونکہ ''نئے لطیفے'' جو سیاسی کھیت میں اگ رہے ہیں وہ سینہ بہ سینہ کہنے سننے کے تو ہیں لیکن کاغذ پر لانے میں ''کاغذ'' کے جل اٹھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یعنی

عرض کیجیے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا صحرا جل گیا

ورنہ ایک بنی گالہ ایک ڈیرہ اسماعیل ایک رائے ونڈ اور ایک سب پر بھاری کے لطیفے بھی ہزار صفحوں کی کتاب پر بھاری پڑ جائیں گے، چنانچہ مجبوراً پرانے مال کو نئے لیبل اور پیکنگ کے ساتھ لانا پڑتا ہے، جس پرانے لطیفے کی دم اس وقت زور زور سے ہل رہی ہے، وہ وہی قمار بازوں کا پرانا لطیفہ ہے کہ چار جواری اصطلاحاً ''آلات قمار بازی'' سمیت پکڑے گئے، چاروں کو حوالہ حوالات کر دیا گیا لیکن ابھی حوالات اور مکالات بلکہ مک مکالات کی نوبت نہیں آئی تھی کہ ایک جواری کو ایک نہایت ہی بھاری بھرکم فون کال پر چھوڑ دیا گیا۔

دوسرے کے لیے تھانیدار کی بیگم کی خطرناک فون کال آئی اور تیسرے کو چھڑانے کے لیے علاقے کی سیاسی شخصیت کو خود ہی تھانے کو اپنے قدوم ممنیت لزوم سے شرف یاب کرنا پڑا، صبح چالان کے وقت مرزا نے رہ جانے والے آخری جواری کو طلب کیا اور حسب معمول حسب عادت اور حسب روایت اس کی ماں بہن سے ناجائز رشتے جوڑنے کے بعد پوچھا ۔۔۔ تم جوا کھیل رہے تھے؟ جواری نے دستہ بستہ عرض کرتے ہوئے کہا ، حضور مگر ذرا یہ تو بتایئے کہ میں جوا کس کے ساتھ کھیل رہا تھا؟

ہمیں پکا پکا یقین ہے کہ یہ جو پانامہ لیکس کا چھاپہ پڑا ہے اور کچھ لوگ ماخوذ ہوئے ہیں ان کا بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ صرف ''جرم'' باقی رہ جاتا ہے اور کرنے والے دھل دھلا کر بلکہ آیندہ عہدوں کے لیے استری ہو کر آ جاتے ہیں، کمیشن بھی قائم ہو جائے گا اس کی رپورٹ بھی تیار ہو جائے گی اور اس رپورٹ پر کالمیت اور اینکریت بھی خوب خوب ہو جائے گی کیونکہ اس قسم کے سارے ''دل'' صرف شور بہت کرتے ہیں چیرنے پر ایک بھی قطرہ خون نہیں نکلتا۔

دراصل پاکستان میں بڑے کمال کے مسلمان رہتے ہیں جو سزا کے بجائے معاف کر دینے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس لیے دیتے ہیں کہ وہ مشہور و معروف ''کیفر کردار'' جس کے چرچے اکثر ہوتے رہتے ہیں کسی ایسے دشوار مقام پر نصب ہے جس تک پہنچنے کے نہ جانے کتنے ہفت خواں سر کرنا پڑیں گے اور پھر عام آدمی کوئی رستم تو ہوتا نہیں ہے، اس لیے معاف کر دیتے ہیں، پشتو میں کہاوت ہے کہ کتا روٹی لے گیا تو جس کی روٹی اس نے حد درجہ دریا دلی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا، چلو خدا کے نام روٹی دے ڈالی۔ حضرت یسوع مسیح نے راہ چلتے ہوئے ایک جگہ بھیڑ دیکھی تو نزدیک گئے۔

پتہ چلا کہ یہودی لوگ ایک مرد و زن کو باندھے ہوئے ہیں اور سنگ بازی کرنے کو ہیں، حضرت یسوع نے مجمع کو مخاطب کیا کہ بے شک ان کو زنا کے جرم میں پتھر مارو لیکن پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو، سارے مجمے کو سانپ سونگھ گیا، اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کمیشنوں، کمیٹیوں اور بیوریو وغیرہ کے لیے کہیں باہر سے آدمی بلوائے جائیں اور اگر ہو بھی جائے جیسا کہ بے نظیر قتل کیس میں ہوا اصل مقصد اصل مجرموں کو پاک و صاف کرنا ہوتا ہے نہ کہ پکڑنا، سب کو پتہ ہے کہ یہ سب کیا ہے کیا ہو رہا ہے اور کیا کیا جا رہا ہے لیکن چور نے کبھی چور کو پکڑا ہے یہاں کون ہے جس کے دامن میں سو چھید اور ہزار داغ نہیں ہیں۔

کہاں کہاں سب پر ''بھاری'' لوگوں کے جمگھٹے اس ملک پر نہیں پل پڑے گے، ایسا لگتا ہے جیسے یہ ملک بغداد ہو اور ہلاکو خان کے لشکر نے اسے فتح کیا ہو اور اب مال غنیمت بٹورنے کی مکمل آزادی کا دور دورہ ہو، آئین بھی ہے قانون بھی ہے ادارے بھی ہیں تقریریں بھی ہیں پہلی ترجیحات بھی ہیں دھرنے بھی ہیں سب کچھ ہے لیکن وہ بھی ہیں اور یہ بھی ہیں... احتساب بھی ہے اینٹی کرپشن بھی ہے پانامہ لیکس بھی ہے۔

حضرت عمران خان کو خدا ہمت دے اور دھرنوں کی قوت میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہو ان سے جو توقع تھی وہ بھی نقش برآب ثابت ہو، یہ ڈھول بھی اندر سے پولم پول ہی نکلا، کہ چوروں کو بغل میں بٹھا کر چوروں کو پکڑ رہے ہیں، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ سوائے گرم بازاری کے اور کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے، چور پولیس کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں چوروں کو جب جی چاہیے پولیس کی صف میں کھڑے ہونے کی آزادی ہے، بچپن میں ہم جب مداری کا تماشہ دیکھتے تھے تو وہ سب سے پہلے ایک سانپ دکھانے کا قصہ شروع کرتا جو اس کے قول کے مطابق اس کے پٹارے میں موجود ہوتا تھا پھر کمال ہنر مندی سے گریز کرتے ہوئے ''پتھر کی مومیائی'' پر آ جاتا تھا، اپنی ساری مومیائی تو بیج ڈالتا لیکن سانپ کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا۔

مقبول خبریں