کلبھوشن کو پھانسی کی سزا اور ننھی حنا کی پاکستان واپسی

پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود امید ہے کہ ننھی حنا اپنی والدہ اورخالہ سمیت جلد واپس آجائے گی۔


آصف محمود/ April 12, 2017
لوگ کہہ رہے ہیں کہ میری امی، خالہ اور بہن واپس نہیں آئیں گی کیونکہ ہم نے بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا سنا دی ہے۔ انکل آپ بتائیں، میری امی اور بہن آجائیں گی ناں؟ فوٹو: فائل

دفتر جانے کے لئے میں تیار ہورہا تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی، ابتدائی طور پر میں نے گھنٹی کو نظر انداز کردیا، لیکن جب فون پر مسلسل کال آنے لگی تو خیال آیا کہ کال کرنے والے کو کوئی بہت ہی ضروری کام ہے۔ میں چارجنگ پر لگے موبائل کو اتارا، اسکرین دیکھی تو کسی انجانے نمبر سے کال آرہی تھی، میں نے فون اٹینڈ کرلیا، دوسری طرف کسی بچی کی آوازتھی۔ بیٹا آپ کون ہیں؟ میرے دریافت کرنے پر اُس نے بتایا کہ انکل میرا نام عائشہ ہے، میں فاطمہ کی بیٹی ہوں، میری امی اور خالہ بھارت کی جیل میں ہیں، آپ نے اُن کی خبر چلائی تھی۔

جی بٹیا! ہم نے خبر چلائی تھی، تمہاری امی، خالہ اور بہن حنا بہت جلد واپس آجائیں گی۔ تم اپنی ماں کے ساتھ ساتھ اپنی بہن سے بھی مل سکوں گی جس کی تم نے آج تک صرف تصویریں ہی دیکھی ہیں۔ وہ کہنے لگی انکل، لیکن ہمارے گاؤں میں لوگ اب باتیں کررہے ہیں کہ میری امی، خالہ اور بہن واپس نہیں آئیں گی کیونکہ ہم نے بھارت کے ایک جاسوس کو پھانسی کی سزا سنا دی ہے۔ اب لوگ کہہ رہے کہ انڈیا پاکستانیوں کو رہا نہیں کرے گا، انکل آپ بتائیں، میری امی اور بہن آجائیں گی ناں؟



اب میں اِس بچی کے سوال کا کیا جواب دیتا، جس کی والدہ فاطمہ، خالہ ممتاز اور بہن حنا دس سال سے امرتسر انڈیا کی جیل میں تھیں اور ایک بھارتی این جی او کی مدد سے رہا ہوگئیں اور اب انہیں ایک کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

فاطمہ اور ممتاز کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں دھلے سے ہے، دونوں خواتین 2006ء میں اپنی والدہ رشیداں کے ساتھ رشتہ داروں سے ملنے بھارت گئیں لیکن بھارت کے اٹاری ریلوے اسٹیشن پر انہیں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا، ضعیف والدہ اِسی صدمے سے چل بسیں اور اِن کی لاش واپس آگئی جبکہ فاطمہ اور ممتاز کو عدالت نے دس، دس سال قید اور دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

جس وقت دونوں بہنوں کو گرفتار کیا گیا، اُس وقت فاطمہ چند ماہ کی حاملہ تھی اور اُس نے جیل میں ہی ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا جس کا نام حنا رکھا گیا۔ حنا جیل کی تنگ و تاریک زندگی میں فاطمہ اور اُس کی بہن کے لئے زندگی کی ایک نئی نوید بن کر پیدا ہوئی۔ اُس معصوم نے جیل کی مصیبتیں، دکھ اور تکلیفیں بُھلا دیں اور دونوں بہنیں اپنی سزا مکمل ہونے کا انتطار کرنے لگیں۔ بالآخر 2016ء میں دس سال کا طویل عرصہ مکمل ہوگیا اور دونوں بہنوں کی سزا مکمل ہوگئی، لیکن ابھی ایک کام باقی تھا اور وہ تھا چار لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی۔ دونوں بہنوں نے اپنے خاندان سے رابطہ کیا مگر غریب لوگ چار لاکھ کہاں سے لاتے، ممکن ہے اُنہوں نے کوشش کی ہو مگر جب کچھ نا بن سکا تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ وہ چار لاکھ روپے کا بندوبست نہیں کرسکتے، جہاں دس سال گزارے ہیں وہیں دو سال مزید سزا کاٹ لیں لیکن اب اُن کے لئے یہ دو سال، دو صدیوں پر محیط محسوس ہورہے تھے۔ جیل میں پیدا ہونے والی حنا اب دس سال کی ہوچکی تھی جو ہر وقت ماں سے اپنے باپ اور باقی بہن بھائیوں کے بارے میں پوچھتی رہتی ہے۔ ماں اُسے ہر روز یہ تسلی دیتی ہے کہ بس چند روز اور انتظار کرلو، پھر وہ سب واپس پاکستان جاسکیں گیں۔ یہ سب سن کر حنا کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔



مایوسی کے اِس عالم میں ایڈووکیٹ ناوجوت کور اِن پاکستانیوں کے لئے ایک مہربان بن کر سامنے آئیں۔ یہ خاتون ایک این جی او چلا رہی ہیں جس کا کام ایسے ہی قیدیوں کی مدد کرنا ہے۔ ناوجوت کور نے دونوں خواتین پر عائد کیا گیا چار لاکھ روپے کا جرمانہ عدالت میں جمع کروادیا جس کے بعد فاطمہ، ممتاز اور حنا کو رہائی مل گئی۔ اب یہ تینوں امرتسر سینٹرل جیل کے کیمپ میں ہیں جہاں انہیں سفری دستاویزات درکار ہیں تاکہ وہ واپس پاکستان آسکیں۔

لیکن ابھی مسئلہ حل نہیں ہوا تھا کیونکہ حنا کے لئے ایک قانونی مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ایڈووکیٹ ناوجوت کور کے بقول، حنا کا جنم بھارتی جیل میں ہوا ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جو بچہ جس ملک میں پیدا ہو وہ وہاں کا ہی شہری ہوتا ہے۔ حنا اب چونکہ بھارت میں پیدا ہوئی ہے اِس لئے وہ بھارتی شہری ہے۔ اُس کو پاکستان بھیجنے کے لئے پہلے بھارتی پاسپورٹ بنوانا پڑے گا، تاہم میری جب اِس حوالے سے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام سے بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ حنا کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے پر اُسے ایمرجنسی پاکستانی پاسپورٹ جاری کردیا جائیگا اور وہ اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ پاکستان جاسکے گی۔

بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے اِس حوالے سے یقین دلایا کہ وہ اِن خواتین کی جلد وطن واپسی یقینی بنانے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے۔ جس سے یہ اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ دونوں خواتین اور حنا جلد پاکستان آسکیں گی، لیکن پھر اچانک پیر کے روز پاکستان کی فوجی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنائی تو بھارت جیسے آگ بگولہ ہوگیا۔ اُِس نے اُن تمام پاکستانی قیدیوں کی رہائی سے انکار کردیا جنہیں شیڈول کے مطابق 12 اپریل کو رہا کیا جانا تھا۔ اِسی خبر نے فاطمہ کی بیٹی عائشہ اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

لیکن پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود اُمید اب بھی یہی ہے کہ ننھی حنا اپنی والدہ اور خالہ سمیت جلد واپس آجائیں گی کیونکہ اُنہیں جیل سے رہائی مل چکی ہے، اب واپسی کے لئے صرف سفری دستاویزات کا انتطار ہے۔ جس کے لئے یہ خواتین اور اِن کے خاندان والے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف امید لگائے بیٹھے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔



اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔

مقبول خبریں