اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد… چند معروضات
امام کعبہ کا دورہ پاکستان کامیاب رہا یا نہیں، تو اسے جاننے کے لیے اہداف سمجھنا ضروری ہو گا۔
امام کعبہ کا دورہ پاکستان کامیاب رہا یا نہیں، تو اسے جاننے کے لیے اہداف سمجھنا ضروری ہو گا۔ اگر ان کے دورہ کا مقصد پاکستان میںاسلامی اتحاد ی فوج کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا تھا تو میں امام کعبہ جن لوگوں سے ملے ہیں وہ تو پہلے ہی اس فوجی اتحاد کے حق میں ہیں' جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اس فوجی اتحادی کے حق میں نہیں ہیں'وہ پہلے بھی تحفظات رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان سفارتی محاذ پر اب ایسے موڑ پر کھڑا ہے کہ اسے دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہے۔ بہرحال اگر کوئی حتمی فیصلہ کرنا ہے تو پاکستان کو اپنے مفاد کو سامنے رکھنا ہے ۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ تین دہائیوں میں اتار چڑھاؤ کا شکاررہے ہیں۔ ایران آجکل بھارت کے زیادہ قریب ہے۔ جب پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت کی حمایت کر رہا تھا تب ایران طالبان حکومت کا مخالف تھا۔ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان ایک فاصلہ برقرار رہا'جب پاکستان نے امریکی دباؤ میں گلبدین حکمت یار کو پاکستان میں پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا تو انھوں نے ایران میں پناہ لے لی تھی' یہ وہ وقت تھا جب ایران اور امریکا کے درمیان چپقلش عروج پر تھی۔ راقم الحروف تہران میں گلبدین حکمت یار کو ملا تھا ۔
ایران اور پاکستان افغانستان میں بھی اپنی الگ الگ گیم کھیل رہے ہیں اور دونوں کے مفاد ات کبھی مشترک نہیں رہے۔ پاکستان شروع سے امریکا کا اتحادی رہا ہے جب کہ انقلاب ایران کے بعد ایران امریکا مخالف رہا ہے، اس لیے بھی پاکستان اور ایران کے درمیان فاصلے رہے ہیں۔ پاکستان امریکی امداد پر زندہ رہا اور ایران اپنے بل بوتے پر پابندیوں کا مقابلہ کر رہا تھا'یہ الگ بات ہے کہ اب جب پاکستان اور امریکا کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے ہیں، تب امریکا اور ایران کے درمیان برف پگھلنا شروع ہوئی ' اس کو بھی حسن اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں کہ اب سعودی عرب اور امریکا کے درمیان بھی فاصلے واضح نظر آرہے ہیں۔ اس طرح عالمی سفارتکاری میں ایران اور پاکستان کبھی بھی ایک کیمپ میں نہیں رہے اورجب کہ سعودی عرب اور پاکستان ایک ہی کیمپ میں رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطے میں ایران کے حامی ممالک میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ سعودی عرب ،کویت، یو اے ای اور دیگر عرب ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔ یہ پاکستانی پاکستان کی معیشت کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان سے قیمتی زر مبادلہ حاصل ہو تا ہے۔ ان کی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں خاندان زیر کفالت ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق صرف سعودی عرب میں بیس لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ، بحرین ،کویت اور قطر میں پاکستانیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
پاکستان کی جانب سے یمن میں فوج نہ بھیجنے کے اعلان کے بعد یقینا سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک پاکستان سے ناراض ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد بھی پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اتنی گرم جوشی نہیں آسکی تھی کہ یہ کہا جا سکتا کہ ایران سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کا نعم البدل ہو سکتا ہے۔ ایران کے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات اور افغانستان کے ایشو پر ایسے بنیادی اختلافات ہیں جن کا اس عرصہ میں کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ایران اس ضمن میں اپنے مفادات پاکستان کے لیے قربان کرنے کو تیار نہیں۔ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور پاکستان اس دوران اتنے قریب نہیں آسکے کہ عرب ممالک کو مکمل خیر باد کہا جا سکتا۔آپ دیکھیں کہ اس دوران پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بڑا بریک تھرو نہیں ہو سکا۔یعنی جو بھی رکاوٹیں حائل ہیں ان کا حل نہیں نکل سکا ہے۔ ادھر عرب ممالک بھی پاکستان سے دور ہو رہے تھے۔
اس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا تھا' بھارت نے جب یہ دیکھا کہ پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے ہیں تو مودی عرب ممالک کے دورہ پر پہنچ گئے۔ ایسے میں سعودی عرب نے بھی انھیں سب سے بڑا سول اعزاز دے دیا،گو سعودی عرب یہ توجیح پیش کرتا ہے کہ وہ اس طرح کے تین اعزاز پاکستان کو دے چکا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی گونج تھی کہ بھارت سعودی عرب سے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ ان سودوں کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اعزاز دیا گیا لیکن سادہ بات یہی ہے کہ پاکستان سے ناراضی کا عنصر بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ جس کو کم از کم پاکستان میں محسوس کیا گیا ہے ۔
ایسے حالات میں پاکستان کے لیے عرب ممالک کو ناراض رکھنا نقصان دہ نظر آرہا ہے۔ ویسے بھی ممالک فیصلے قومی مفاد میں کرتے ہیں۔جہاں تک یمن اور بحرین جیسے تنازعات کا تعلق ہے تو یہ ایک دن میں حل ہونے والے نہیں۔اب شاید وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان حتمی راہ عمل متعین کرتا۔یہ پاکستان کے اتحادی فوج میں شمولیت کا اعلان ہی تھا کہ یوم پاکستان پر برج الخلیفہ پاکستان کے جھنڈے سے روشن تھا۔ امام کعبہ پاکستان آئے۔ بحرینی وزرا پاکستان آرہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پاکستان کے قومی مفاد کو سامنے رکھیں۔ ہمیں کسی گناہ بے لذت کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔