کیا جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان شراکت اقتدار موجود بھی ہے۔


[email protected]

HYDERABAD: جب بھی سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی بات پر تنازعہ پیدا ہو تا ہے تو میرے دوست نہ جانے یہ کیوں سمجھنے لگتے ہیں کہ اب جمہوریت کا بستر گول ہو جائے گا۔ حکومت گھر چلی جائے گا۔ یہ پہلی صورتحال نہیں ہے جب میرے دوست ایسی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ جب سے جمہوریت کی گاڑی دوبارہ پٹری پر چڑھی ہے اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چارٹر آف ڈیموکریسی کیا ہے تب سے میرے دوستوں کی امیدوں کے دن لمبے اور راتیں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ میرے ان دوستوں کو جب بھی منزل قریب آنے کی امید ہوتی ہے۔ نہ جانے منزل کیوں اتنی ہی دور چلی جاتی ہے۔

آصف زرداری کے دور حکومت میں بھی میمو سکینڈل سمیت ان گنت مواقع پر سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعات اور اختلافات پیدا ہوئے۔ لیکن ان تمام مواقع پر سول حکومت کے بچ جانے کی وجہ یہی تھی کہ جمہوریت کو چلانے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا معاہدہ موجود تھا۔ اب بھی میاں نواز شریف کے موجودہ دور حکومت میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی ایک معاملہ پر تنازعہ یا اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن میرے دوست نہ جانے ہزار بار امید سے ناامیدی کا سفر طے کرنے کے باوجود بھی دوبارہ امید لگا کر بیٹھ گئے ہیں۔

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہر تنازعہ جمہوریت کے قتل کا باعث نہیں ہو سکتا۔ اختلاف ایک جمہوری حق ہے۔ موجودہ دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت مشترکہ طور پر شریک اقتدارہیں۔ لیکن یہ ایک د وسرے کے اتحادی نہیں ہیں۔ بلکہ شراکت اقتدار اپنی اپنی ہمت اور طاقت کی وجہ سے ہے۔

سول حکومت کو یہ طاقت جمہوری نظام اور ووٹ سے ملتی ہے جب کہ اسٹیبلشمنٹ نے اتنے سالوں میں اپنا ایک رعب دبدبہ اور اقتدار میں حصہ منوا لیا ہوا ہے۔ بہت سال اقتدار بلا شرکت غیر اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی رہا ہے۔ جس کی وجہ سے انھوں نے اقتدار میں اپنا حصہ منوا لیا ہوا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اس قدر لازم و ملزوم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے اقتدار میں بھی سیاستدانوں کو حصہ دینے پر مجبور ہے اور سیاستدان اپنی حکومت میں سے اسٹیبلشمنٹ کو حصہ دینے پر مجبور ہیں۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان شراکت اقتدار موجود بھی ہے لیکن ان کے درمیان اس کے لیے باقاعدہ کوئی فارمولہ بھی طے نہیں ہے۔ کوئی رولز آف دی گیم بھی نہیں ہیں۔ اسی لیے دونوں ہر وقت زیادہ زیادہ حصہ حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ اور جتنا بھی مل جائے اس پر خوش نہیں ہوتے۔ جو مل جائے اس سے اگلے کی جستجو اور جو چلا گیا ہے اس کو حاصل کرنے کی جدو جہد ہی دونوں کا تعلق ہے۔

جب سول حکومت کسی مفاہمتی سیاستدان کے پاس آجاتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کی چاندی ہو جاتی ہے۔ جب سول حکومت کی قیادت کسی مزاحمتی سیاستدان کے پاس آ جاتی ہے تو نہ صرف کشمکش بڑھ جاتی ہے بلکہ تناؤ اور اختلافات روز کا معمول بن جاتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہے اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت میں سے اقتدار کس کے پاس ہو گا اور کون شریک اقتدار ہو گاکون طے کرتا ہے۔ تو یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستان میں نہ تو اسٹیبلشمنٹ اور نہ ہی سول حکومت کو اقتدار کسی بہت بڑی عوامی مہم یا انقلاب کی صورت ملا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہوا کہ عوام اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار کے لیے سڑکوں پر آگئے ہوں۔ اور انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے مجبور کر دیا ہو۔ اسی طرح ایسا بھی نہیں ہے کہ کبھی سول حکومت کی بحالی کے لیے عوام بھی اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر آگئے ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ اقتدار سول حکومت کو منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی ہو۔ یہ سب عالمی طاقتیں طے کرتی ہیں۔

یہی عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے دونوں اسٹیبلشمنٹ کا سربراہ اور سیاستدان ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ نیوز لیکس پر زیادہ نہیں لکھنا چاہتا۔ لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ اپنے سابق سربراہ پرویز مشرف کے لیے محفوظ راستہ مانگ سکتی ہے تو کسی دوسرے مسئلہ پر اپنے کسی بندے کے لیے ایسا محفوظ راستہ سول حکومت کو بھی کیا مانگنے کا حق ہے۔ بس یہی تنازعہ ہے۔ جتنا شور سول حکومت نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے وقت مچایا تھا۔ اب اتنا شور سننا بھی پڑے گا۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی سربراہ کانفرنس کی وجہ سے عالمی طاقتیں بھٹو سے ناراض ہو گئی تھیں اور انھوں نے بھٹو کو گھر بھیجنے کے لیے ضیاء الحق کو گرین سگنل دے دیا۔ اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جب اسی اسٹیبلشمنٹ سے افغانستان کے مسئلہ پر عالمی طاقت سے بگڑ گئی تو اسٹیبلشمنٹ کا بستر گول ہو گیا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ہو۔ اور ملک میں سول حکومت کا راج واپس آگیا۔

اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو عالمی طاقتیں اس نا فرمانی پر میاں نواز شریف سے ناراض ہو گئیں اور انھوں نے ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کو گرین سگنل دے دیا۔ اور دوبارہ جب افغانستان پر اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات ہو ئے تو سول حکومتوں کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس فلسفہ کے تحت سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں جاری اقتدار کی کشمکش میں ہار جیت کے فیصلہ کا اختیار پاکستان کے عوام یا عدلیہ کے پاس نہیں ہے۔

اسی تناظر میں موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو بہت دلچسپ نظرآتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ایک دو مواقع ایسے آئے جب جنرل راحیل شریف آخری فیصلہ کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن کسی ان جانی قوت نے انھیں روک دیا۔ ان سے امیدیں وابستہ کرنے والے بھی یہ گلہ کرتے نظرآتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف گیند کو گول میں لے گئے تھے۔ گول بھی خالی تھا لیکن انھوں نے گول نہیں کیا۔ صاف ظاہرکوئی تو وجہ ہو گی' اب بھی یہی صورتحال ہے ۔پھر سوال یہ ہے کہ پھر کشمکش کا کیا فائدہ ہے۔ کشمکش اس لیے ضروری ہے تا کہ آخری اشارہ کی بنیاد بنائی جا سکے۔

اس وقت پاکستان میں جو عالمی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس میں سول حکومت کا اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردار ان عالمی قوتوں کی ضرورت ہے جو کھیل کھیل رہی ہیں۔ اسی لیے نہ تو اسٹیبلشمنٹ کمزور ہو سکتی ہے اور نہ ہی سول حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں کے لیے مشکل صورتحال ہے۔ کیونکہ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ فوری نتائج نکلے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا دونوں کی مجبوری ہے۔

برداشت اور عدم برداشت کے اسی کھیل نے پاکستان کی سیاست میں اس وقت قو س قزاح کے رنگ بھرے ہوئے ہیں۔ منظر نامہ رنگین ہے۔ اور میرے دوست پریشان ہیں۔ انھیں کبھی جمہوریت اور کبھی اسٹیبلشمنٹ خطرہ میں لگتی ہے۔ لیکن آپ مانیں یا نہ مانیں دونوں کو پتہ ہے کہ ابھی ہمیں گیم سے آؤٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے دونوں کبھی کبھی ایک دوسرے کو آنکھیں بھی دکھاتے ہیں۔ جہاں تک چارٹر آف ڈیموکریسی کا تعلق ہے تو اس وقت وہ طاقت کا توازن سول حکومت کے حق میں رکھنے کے لیے ایک کارآمد ہتھیار ہے۔ جس کی افادئت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

جہاں تک میاں نواز شریف کی مشکلات کا سوال ہے تو یہ الیکشن کا سال ہے۔ جمہوری حکومت ہے۔ عوام سے ووٹ لینے ہیں۔ اس لیے پانامہ سمیت ہر مسئلہ جمہوری نظام کا بنیادی تقاضہ ہے۔ لیکن یہ سمجھنا کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی بنیاد پر گیم الٹ دے گی شائد ممکن نہیں۔ اس لیے جمہوریت اور جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور آئین میں منتخب وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے استعفیٰ کا بھی کوئی امکان نہیں۔

مقبول خبریں