جماعت اسلامی کا پلان بی کیا ہے
جماعت اسلامی بلا شبہ ایک مکمل جمہوری جماعت ہے۔ ہر سطح پر جمہوریت اور احتساب فول پروف نظام موجود ہے
جماعت اسلامی بلا شبہ ایک مکمل جمہوری جماعت ہے۔ ہر سطح پر جمہوریت اور احتساب فول پروف نظام موجود ہے۔ اسی نظام کی وجہ سے ہی جب قاضی حسین احمد اسلامک فرنٹ بنا کر انتخاب ہارے تو انھیں امارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اسی طرح جب سید منور حسن کی امارت میں جماعت اسلامی 2013 کے انتخاب ہاری تو انھیں بھی جماعت اسلامی کی شوریٰ کے سامنے اپنا ا ستعفی ٰ پیش کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں مواقع پر جماعت اسلامی کی شوریٰ نے استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ لیکن استعفیٰ دینے کی روایت جماعت اسلامی کے اندر موجود ہے۔ جماعت اسلامی کے اندر کی جمہوریت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ جب متحدہ مجلس عمل نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تو اس وقت کے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد دو نشستوں سے کامیاب ہوئے۔
شنید یہی تھی کہ وہ اپنی خالی ہونی والی نشست پر اپنے بیٹے کو ٹکٹ دینے کے خواہاں تھے۔ منصورہ میں ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا میرا بیٹا ہونا کوئی جرم نہیں۔ میں نے پاس بیٹھے اس وقت کے جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل سید منور حسن جو بعد میں امیر بنے پوچھا کہ ٹکٹ مل جائے گا تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے مشکل ہے، پہلے سید مودودی اور میاں طفیل کے بیٹوں کو ٹکٹ دینا پڑے گا۔ بعد میں قاضی صاحب کے بیٹے کی باری آئے گی اور پھر شوریٰ نے ٹکٹ امیر جماعت اسلامی کے بیٹے کے بجائے ایک عام کارکن کو دے دیا۔احتساب کا بھی مکمل نظام موجود ہے۔کسی ٹیکس چور اور قرضہ خور کے لیے جماعت اسلامی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ نیب زدہ اور کرپشن کے کسی سکینڈل میں ملوث کسی کا بھی جماعت اسلامی میں رہنا ایک مشکل کام ہے۔
سراج الحق ٹھیک کہ رہے ہیں کہ ان کی جماعت میں کسی بھی کرپشن سکینڈل میں ملوث کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ان کے کسی مرکزی رہنما پر نیب کی کوئی انکوائری نہیں ہے ۔ لیکن انھیں علم ہے کہ پاکستان کی سیاست میں صرف اس پر ووٹ نہیں مل سکتے۔ عوام ابھی اتنے باشعور نہیں ہو ئے کہ صرف جمہوریت اور کرپشن کی بنیاد پر ووٹ دے دیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو اکثر سیاسی جماعتوں کا یا تو بستر گول ہو جائے یا وہ اپنے اندر صفائی ایک بڑی مہم شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ پھر کسی جماعت میں کسی اے ٹی ایم اور کسی صنعتکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اسی لیے وہ بار بار دینی جماعتوں کا اتحاد بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اور ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیے تیار ہے۔ انھوںنے یہ اعلان جے یو آئی کے اجتماع میں بھی کیا تھا۔تا ہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ضمن میں ابھی تک کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔
دینی جماعتوں کے اتحاد کی پنجاب اور سندھ میں بڑی انتخابی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔البتہ کے پی کے اور بلوچستا ن میںکامیابی کا امکان ہے۔ان دو صوبوں میں جب تک جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی اکٹھی نہ ہوں تب تک کامیابی کے امکانات پیدا نہیں ہوتے۔ گزشتہ انتخابات میں جے یو آئی (ف) نے جماعت اسلامی کے بغیر متحدہ مجلس عمل کو بحال کر کے دیکھ لیا ہے اور جماعت ا سلامی نے بھی جے یو آئی (ف) کے بغیر چل کر دیکھ لیا ہے۔ اگر یہ بات مجھ جیسے ایک طفل مکتب کو سمجھ ہے کہ اگر دینی جماعتوں کے اتحاد کی سیاست کرنی ہے تو پھر ان دونوں بڑی جماعتوں کو اکٹھا ہو نا پڑے گا بلکہ باقی دینی جماعتوں کو بھی اپنے گرد اکٹھا کرنا ہوگا ۔ شنید یہی ہے کہ دونوں جماعتوں میں واضح اختلاف یہی ہے کہ دونوں میں سے بڑی جماعت کونسی ہے۔ اگر کے پی کے جیت گئے تو وزارت اعلیٰ کس کے پاس ہو گی۔ ٹکٹوں کی تقسیم کیسے ہو گی۔ اسی طرح بلوچستان میں جے یو آئی فری ہینڈ مانگتی ہے۔ جو جماعت اسلامی دینے کے لیے تیار نہیں۔ پنجاب اور سندھ کی حد تک کم اختلاف ہے بلکہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔
ویسے بھی مولانا فضل الر حمٰن اور سراج الحق اس وقت سیاسی طور پر متحارب گروپوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سراج الحق نے میاں نواز شریف کے خلاف ایک واضح لائن لے لی ہے۔ ان پر جو یہ تنقید ہو رہی تھی کہ وہ دونوں طرف چل رہے ہیں ۔ انھوں نے اس ضمن میں ابہام ختم کر دیا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمٰن نواز شریف کے ساتھ قربتیں اتنے بڑھاتے جا رہے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ سراج الحق کے ساتھ دینی جماعتوں کا اتحاد بنانے کے بجائے نواز شریف کے ساتھ کوئی اتحاد بنا لیں گے۔
سیاست میں جو آپ چاہیں وہ آپ کو نہیں مل سکتا۔ اس لیے سراج الحق کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگرجماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) اکٹھے نہ ہو سکے تو کیا ہو گا۔جماعت اسلامی کا پلان بی کیا ہے۔ سراج الحق کیا صرف جماعت اسلامی کے اندر کی جمہوریت احتساب اور صاف شفاف قیادت کے نعرہ پر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔کیا وہ کہہ یہ کہ سکتے ہیں کہ ان کی جماعت میں کوئی آف شور کمپنی والا نہیں ہے۔کوئی پانامہ والا نہیں۔کوئی ڈیفالٹر نہیں ہے۔کوئی نیب زدہ نہیں ہے۔
ملک میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی انتخابی حکمت عملی فائنل کرنی شروع کر دی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی کوبھی اپنی حکمت عملی واضح کرنی ہو گی۔ صرف دینی جماعتوں کے اتحاد پر تکیہ لگا کر بیٹھنا سیاسی خود کشی بھی ہو سکتی ہے۔ ویسے تو جماعت اسلامی سیاسی خود کشیوں کی عادی ہے۔ اس کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس کے اندر کی جمہوریت اس کو سیاسی خود کشی کے بعد بھی زندہ کر دیتی ہے۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہو تی ہے۔ اور شائد جماعت اسلامی اس حد تک پہنچ چکی ہے۔