صوبوں میں ترقی کا مقابلہ شہباز اسپیڈ ایک اہم مسئلہ
میں جب سندھ کے مسائل کو دیکھتا ہوں اور ان کا پنجاب سے موازنہ کرتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے
آجکل سندھ میں بہت شور ہے۔ ایک طرف بوٹی مافیا نے سندھ حکومت کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے اور دوسری طرف مصطفی کمال نے ملین مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان سب ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے پیپلزپارٹی لوڈ شیڈنگ کا ڈھول بجا رہی ہے۔ لیکن لوڈ شیڈنگ کا ڈھول ان کی اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو رہا ۔ جہاں تک بوٹی مافیا کا تعلق ہے تو میڈیا میں شور مچنے کے بعد سندھ کی پوری حکومت بوٹی مافیا کے خلاف نکل پڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ وزیر تعلیم اور تمام ڈپٹی کمشنرز بوٹی مافیا کے خلاف نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ چھاپے پر چھاپہ مارا جا رہا ہے لیکن بوٹی مافیا سندھ حکومت کے قابو نہیں آرہا۔ اسی طرح کراچی کا گند اور پانی کے مسائل بھی اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ سندھ حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کر رہے ہیں۔
میں جب سندھ کے مسائل کو دیکھتا ہوں اور ان کا پنجاب سے موازنہ کرتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پنجاب نے تو بہت پہلے بوٹی مافیا کو شکست دیکر پنجاب سے نکال دیا تھا۔ یہ درست ہے کہ پہلے پنجاب اور لاہور میں بھی امتحانی سینٹرز بکتے تھے مافیا کا راج تھا لیکن شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے پہلے دور میں ہی پنجاب میں بوٹی مافیا کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔ جب شہباز شریف یہ کام کر رہے تھے تو ان کے ناقدین جن میں پیپلزپارٹی بھی شامل تھی ان کا مذاق اڑا رہی تھی کہ کیا یہ کام وزیر اعلیٰ کے کرنے کے ہیں۔ لیکن شہباز شریف خود امتحانی سینٹرز پر چھاپے مار رہے تھے۔ اور اب پنجاب میں امتحانی نظام پورے ملک سے نہ صرف بہتر ہے بلکہ اس کی ساکھ بھی باقی صوبوں کے امتحانی نظاموں سے بہت بہتر ہے۔
اسی طرح جب کراچی کے گند کی بات کی جاتی ہے تو لاہور کی صفائی کی مثال دی جاتی ہے۔میرے بہت سے دوست کراچی سے جب لاہور آتے ہیں تو لاہور کی ترقی اور صفائی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ وہ لاہور کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے کراچی کی سڑکوں کی زبوں حالی کی داستاں بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ رات کو لاہور کی سڑکوں پر صفائی ہوتا دیکھ کر کراچی کی سڑکوں کے گند کی داستان بیان کرتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ جب شہباز شریف نے لاہور کی صفائی کے لیے ایک ترک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تو شہباز شریف کے ناقدین نے شور مچا دیا کہ اب صفائی کے لیے بھی ترک کمپنی آئے گی۔ کیا ہمیں صفائی کرنی بھی نہیں آتی۔ کسی نے کک بیک کا شور مچا دیا۔ کہیں سے کوئی کہانی آئی۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف کا فیصلہ درست تھا کیونکہ اب تو سندھ حکومت نے بھی چینی کمپنی کے ساتھ صفائی کا معاہدہ کر لیا ۔
اسی طرح کے پی کے میں مشال خان کے واقعہ نے بھی کے پی کے کی حکومت کے تمام دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ جب مشال خان کا واقعہ ہوا تو نہ صرف یہ بات سامنے آئی کہ مردان یونیورسٹی میں کوئی وائس چانسلر نہیں تھا بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ کے پی کے میں سات یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز تعینات نہیں ہیں۔ میں حیران ہوں کہ تحریک انصاف جس نے تعلیم کے شعبہ میں انقلاب میں برپا کرنے کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ یہ وہی تحریک انصاف ہے جو شہباز شریف کے ترقیاتی کاموں کی صرف اس بنا پر مخالفت کرتی تھی کہ پہلی ترجیح صحت اور تعلیم ہونی چاہیے اور اس کی حکومت میں یہ حال ہے کہ صوبہ کی سات یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر ہی تعینات نہیں ہیں۔
یہاں بھی پنجاب کے پی کے سے آگے ہے۔ پنجاب نے جامعات میں وائس چانسلر تعینات کرنے کا ایک شفاف نظام نہ صرف بنایا ہے بلکہ اس کو اعلیٰ عدلیہ سے منظور بھی کروا لیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پنجاب میں وائس چانسلر کی تعیناتی کا عمل کافی حد تک غیر سیاسی ہو گیا ہے۔ اور اب پنجاب میں ایسا ممکن نہیں کہ کوئی یونیورسٹی کئی کئی ماہ بغیر وائس چانسلر کے کام کرے۔ میں تو اس بات پر بھی حیران ہوں کہ تحریک انصاف کی کے پی کے کی حکومت نے اپنے موجودہ چار سالہ دور حکومت میں صوبہ میں ایک بھی نئی یونیورسٹی کا اضافہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کے پی کے، کے بچے پنجاب میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ حکومت جو سڑکوں اور پل بنانے کی اس لیے مخالفت کرتی تھی کہ اس کی پہلی ترجیح صحت اور تعلیم ہے وہ نہ تو ایک بھی نئی یونیورسٹی بنا سکی ہے نہ ہی کوئی نیا اسپتال بنایا گیا ہے جب کہ پنجاب میں نئی یونیورسٹیاں بھی بنی ہیں اور نئے اسپتال بھی بن رہے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شہباز شریف کی میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والے اب خود کراچی اور پشاور میں جنگلہ بس بنانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں۔ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق شاید کے پی کے اور سندھ کی حکومت کو بھی دیر سے سمجھ آئی ہے کہ میٹرو حکمرانوں نہیں عوام کے مفاد کے منصوبے ہیں۔یہاں لاہور میں میٹرو کے بعد اورنج لا ئن بن رہی ہے۔ ملتان میں میٹرو بن چکی ہے راولپنڈی اسلام آباد میں بن چکی ہے۔ جب کہ سندھ اور کے پی کے کی حکومتوں کے منصوبے ابھی ابتدائی مراحل سے آگے نہیں بڑھے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی گزشتہ دنوں لاہور آئے تو ان سے ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ کوئٹہ سے بذریعہ سڑک لاہور آئے ہیں۔ وہ کہنے لگے جب ہم پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی اور ملک میں آگئے ہیں۔ اگر باقی صوبے پاکستان ہیں تو پنجاب پاکستان نہیں ہے اور پنجاب پاکستان ہے تو باقی صوبے پاکستان نہیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے صوبوں کی قیادت اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے پنجاب کی ترقی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ صوبائی خود مختاری کے بعد تمام صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں ہر قسم کے منصوبے بنانے میں مکمل آزاد ہیں۔ تمام صوبوں کو ایک فارمولہ کے تحت وسائل مل رہے ہیں۔اس ضمن میں کوئی تنازعہ نہیں۔ بلکہ پنجاب کا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس کی آبادی سب سے زیادہ ہے، اس کے مسائل زیادہ ہیں۔ تاہم صورتحال الٹ نظر آرہی ہے جن صوبوں کے پاس ایک ایک بڑا شہر ہے وہ اس ایک شہر کی بھی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال نہیں کر پا رہے۔ جب کہ پنجاب میں تو جنوبی پنجاب کا بھی مسئلہ ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری بھی اسی تناظر میں ایک اہم مثال ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ سندھ اور کے پی کے کی حکومتیں پہلے سی پیک کی مخالفت میں وقت ضایع کرتی رہی ہیں جب کہ پنجاب نے پہلے دن سے ہی سی پیک کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا۔ شہباز شریف نے پنجاب کے لیے سی پیک میں سے نہ صرف منصوبے حاصل کیے بلکہ ان پر کام بھی شروع کیا۔ جب شہباز شریف پنجاب کے لیے سی پیک کے ثمرات سمیٹ رہے تھے کے پی کے، کے وزیر اعلیٰ دھرنوں کے کنٹینر پر چڑھے ہوئے تھے اور سندھ میں سائیں کی حکومت سو رہی تھی۔ لیکن اب خدا کا شکر ہے کہ سندھ اور کے پی کے کی حکومتیں بھی سی پیک سے حصہ لے رہی ہیں لیکن اب انھوں نے بلاشبہ دیر کر دی ہے۔
یہ وہی دیر ہے جو انھوں نے صفائی اور دیگر منصوبوں میں کی ہے۔ آج چین پنجاب میں سی پیک کے منصوبوں کی برق رفتاری پر شہباز اسپیڈ کی سفارتی سطح پرتعریف کر رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2012 میں لوڈ شیڈنگ پر عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کی ذمے داری صرف پیپلزپارٹی پر عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ صوبائی خود مختاری کے بعد صوبے اپنے بجلی کے منصوبے بنا سکتے ہیں اور شہباز شریف نے اپنے پانچ سالہ دور میں ایک بھی بجلی کا منصوبہ نہیں بنایا ہے۔ لیکن اب صورتحال عجیب ہے کہ پنجاب بجلی کے 3600 میگاواٹ کے منصوبے مکمل کر رہا ہے۔ جب کہ کے پی کے نے ایک یونٹ کا منصوبہ بھی نہیں بنایا ہے۔ ہائیڈرل کے جتنے منصوبے کے پی کے بنا سکتا تھا اس نے نہیں بنائے۔
کیا اگلے انتخابات میں ووٹر اپنے اپنے صوبہ میں ہونے والی ترقی کا دیگر صوبوں سے موازنہ کرے گا۔ اگر ایسا ہو گا تو شہباز شریف کی اسپیڈ اور اس کے کام باقی صوبوں کی قیادت کے لیے ایک اہم مسئلہ ہو نگے۔ شہباز اسپیڈ کے مقابلے میں باقی صوبے پیچھے رہتے نظر آرہے ہیں۔