مصالحتی سینٹرز اور زیر التوا مقدمات
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مصالحتی عدالتوں کا آئیڈیا سامنے لائے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے خود ہی بتایا ہے کہ پنجاب میں ستر ہ سو ججز کے پاس تیرہ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ اور وہ کون سا ایسا کمپیوٹر سسٹم لے آئیں کہ اتنے زیادہ زیر التوا مقدمات ختم ہو جائیں۔ یقینا اتنی بڑی تعداد میں زیر التوا مقدمات عدلیہ کے سربراہ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں جس کا انھوں نے میڈیا کے سامنے اظہار بھی کر دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مصالحتی عدالتوں کا آئیڈیا سامنے لائے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ ان مصالحتی سینٹرز میں تنازعات کا فوری حل ممکن ہو گا۔ جس کی وجہ سے نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ ختم ہو گا۔ بلکہ لوگوں کو جلدا نصاف بھی مہیا ہو گا۔ اسی لیے یکم جون تک جناب چیف جسٹس نے صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں مصا لحتی سینٹرز بنانے اور انھیں فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو جلد از جلد انصاف کی کوئی بھی کوشش خوش آئند ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن سست نظام انصاف بھی ہماری ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرصرف پنجاب میں سترہ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں تو یقینا ان میں سترہ لاکھ بے گناہ ہیں اور سترہ لاکھ گناہگار ہیں۔ گناہگار اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے نظام انصاف کی سست روی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جب کہ بیگناہ نظام انصاف کی سست روی سے اذیت کا شکار ہے۔
جناب چیف جسٹس کے جلد از جلد انصاف کی فراہمی کے لیے اقدامات قابل قدر ہیں۔ ان کے محدود حد تک نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ لیکن پھر بھی زیر التوا مقدمات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ جب تک ہنگامی اقدامات نہیں کیے جائیں گے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اگر عوام کی نظر سے بات کی جائے تو عوام کے نزدیک ہمارے نظام انصاف میں سب سے بڑا مسئلہ تاریخ پر تاریخ کا کلچر ہے۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ عدالت کی جانب سے جو بھی تاریخ دی جائے اس پر مقدمہ میں پیشرفت ضرور ہونی چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر جناب چیف جسٹس خود ہی ایک آرڈر کر دیں کہ کوئی مقدمہ بغیر پیشرفت کے التوا کا شکار نہیں ہو سکتا' بغیر پیشرفت کے نئی تاریخ نہیں دی جا سکے گی۔ یہ درست ہے کہ ابھی مقدمات کی کاز لسٹ اتنی لمبی ہوتی ہے کہ تمام کیسز کو سننا ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے لیے بھی جناب چیف جسٹس کو ایک حکم صادر کرنا چاہیے ایک جج کی کاز لسٹ تیس یا جتنے بھی وہ مناسب سمجھیں پر ہی مبنی ہو گی۔ اور جو بھی کیسز کاز لسٹ پر ہونگے سب کی سماعت ہو گی۔
اگر دیوانی مقدمات کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی مقدمہ میں جواب دعویٰ۔ ایشوز کے فریم ۔ شہادتیں اور فیصلہ کے ہی اقدام ہیں۔ لیکن ان میں سالہاسال لگ جاتے ہیں۔ اگر یہ طے ہو جائے کہ ہر پیشی پر ایک قدم ضرور بڑھے گا۔ چاہیے مقدمہ کی تاریخ کئی ماہ بعد ہی آئے تو تمام فریقین کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ایسی تاریخوں کا کیا فائدہ جن میں مقدمہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہو تی۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ جب بھی میرے مقدمہ کی باری آئے گی تو اس میں پیشرفت ہو گی تو شاید مجھے اعتراض نہ ہو۔
مغرب میں جہاں کے نظام انصاف کی مثالیں دی جاتی ہیں وہاں بھی مقدمات کی باری آنے میں کئی کئی ماہ اور کبھی کبھی سال بھی لگ جاتے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ اعتماد ہو تا ہے کہ جب بھی آپ کے مقدمہ کی باری آئے گی۔ آپ کے مقدمہ کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اسی طرح جناب چیف جسٹس کو ایسے میکنزم پر کام کرنا چاہیے جس میں عدالت کی جانب سے دی گئی تاریخ سماعت کا ایک وقار ہو۔ اور یہ طے ہو کہ جو بھی تاریخ سماعت ہو گی اس پر مقدمہ کا اگر فیصلہ نہیں گا تو پیشرفت ضرر ہو گی۔ تاریخ پر تاریخ کا کلچر ہی اصل مسئلہ ہے۔
یہ درست ہے کہ ہمارے نظام انصاف کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ بے شک سو گناہ گار بچ جائیں لیکن ایک بھی بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔ اسی لیے نظام انصاف میں اتنے فلٹر لگائے گئے ہیں کہ بے گناہ کو سزا سے بچایا جاسکے۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اب تو گناہگاروں نے ان فلٹرز سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس لیے اب ان فلٹرز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
عدالتوں پر اتنے بوجھ کی ایک بڑی وجہ جھوٹے مقدمات بھی ہیں۔ لوگ مخالفین کو پھنسانے کے لیے جھوٹے مقدمات عدالتوں میں دائر کرتے ہیں۔ ان مین دیوانی اور فوجداری دونوں مقدمات شامل ہیں۔ میری جناب چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ بطور چیف جسٹس تمام ججز کو حکم دیں کہ جب وہ کسی مقدمہ کے فیصلہ کے موقع پر اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ مقدمہ جھوٹا تھا۔ تو عدالت میں جھوٹا مقدمہ دائر کرنیو الے فریق کو مثالی سزا دیں۔ اس ضمن میں جرمانوں کی تعداد اور ان کی رقم میں بھی اضافہ کی ضرورت ہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت عدلیہ کا اس ضمن میں رویہ کافی نرم ہے جس کا لوگ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن نے جب محکمہ اینٹی کرپشن میں کرپشن کی شکایات کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ چند پیشہ ور لوگ سرکاری افسران کو بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹی شکایات دائر کرتے ہیں۔ اس لیے محکمہ اینٹی کرپشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اب جھوٹی درخواست دائر کرنیوالے کے خلاف دفعہ 182 کے تحت کاروائی بھی کی جائے گی۔ تا کہ جھوٹی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسی طرح عدالتوں میں جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اس سے عدالت سے مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر دیوانی مقدمات میں جرمانوں کو مثالی کر دیا جائے توان کی تعداد میں کمی ہو جائے گی۔
اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ ضمانت قبل از وقت گرفتاری کے مقدمات بھی عدلیہ پر بے وجہ بوجھ ہیں۔ یہ معاملہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیو الے اداروں کو خود طے کرنا چاہیے۔ بلکہ ضمانت قابل از وقت گرفتاری تب تک ملزم کا حق ہے جب تک اس کے خلاف پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنیو الے ادروں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس ضمن میں بھی چیف جسٹس کو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے ادروں کو یہ تنبیہہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر لوگوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ بند کریں۔
ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے مقدمات کی بھرمار یقینا عدلیہ کے قیمتی وقت کا ضیاع ہے۔ انتظامی اصلاحات سے یہ بوجھ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ضمانت بعد از گرفتاری کے معاملات بھی اعلیٰ عدلیہ میں جانے کی ضرورت نہیں ہونے چاہیے۔ بلکہ ان کو ٹرائل کورٹ پر ہی حل ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں بھی قواعد طے کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مقدمات کے زیر التوا کا مسئلہ صرف پنجاب میں نہیں ہے۔ بلکہ چاروں صوبوں کی صورتحال یکساں ہے۔ ایسے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کسی فرد یا علاقہ کا قصور ہے۔ بلکہ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ نظام میں خرابی موجود ہے۔ اور اس کی درستگی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
کیا مصالحتی سینٹر زیر التو امقدمات کے خاتمہ میں کوئی بڑا کردار ادا کر سکیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مصا لحتی سینٹر ان فریقین کے لیے تو رحمت ہیں جو اپنے مقدما ت کا فوری فیصلہ چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اکثر مقدمات میں ایک فریق مقدمہ کو لمبا کرنے کا بھی خواہاں ہو تا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فریق کے گرد گھیرا تنگ کیاجائے۔