سعودی اتحاد ۔ پاکستان کا واحد آپشن
پاکستان کی عرب اتحاد میں شمولیت ایران کی مخالفت میں نہیں ہے بلکہ پاکستان کے مفاد میں ہے
پاکستان کے پاس سعودی عرب کے ساتھ جانے کے علاوہ کیا کوئی اور آپشن ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی جو لوگ عرب اتحاد کے ساتھ نہ جانے کا آپشن دے رہے ہیں۔ وہ کیا کہہ رہے ہیں، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ عرب ریاستوں کا ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ یہ کیا منطق ہے۔کوئی بھی ملک اپنے مفاد میں فیصلہ کرتا ہے۔کیا پاکستان کا مفاد عرب ر یاستو ں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں ہے یا ان سے تعلقات کو ختم کرنے میں ہے۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس معاملہ کو فرقہ واریت کا رنگ دیا جارہا ہے۔
کیا پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر عرب ریا ستوں کے ساتھ وسیع معاشی مفاد وابستہ نہیں ہیں۔کیا لاکھوں پاکستانی ان ریاستوں میں روزگار کے لیے موجود ہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کتنے پاکستانی ایران میں روزگار کے لیے موجود ہیں۔ اس لیے اگر فیصلہ صرف پاکستان کے معاشی مفاد میں کیا جائے تب بھی فیصلہ سعودی عرب اور عرب ریاستوں کے حق میں ہی جاتا ہے۔
جو لوگ عرب اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر تحفظات ظاہر کررہے ہیں، وہ شاید کئی پہلوؤں پر غور نہیں کررہے۔ جب پاکستان نے سعودی عرب کے شدید دباؤ کے باوجود یمن میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا تو سعودی عرب اور عرب ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر آگئے لیکن ایران سے کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف بھارت نے پاکستان سعودی عرب اور عرب ریاستوں کے درمیان خراب تعلقات کا فوری فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور مودی وہاں پہنچ گئے۔ یہی تجزیہ نگار جو آج سعودی عرب کے ساتھ جانے پر تنقید کر رہے ہیں ۔ وہ تب وہاں مودی کی پذیر ائی کو بھی ہماری ناکام خارجہ پالیسی قرار دے رہے تھے۔ مو دی کو سعودی عرب نے اپنا سب سے بڑا اعزاز د یا تو پاکستان میں شور مچ گیا۔ یہ درست ہے کہ ایسے تین اعزاز پاکستان کو پہلے ہی مل چکے تھے لیکن پھر بھی بھارت کو ملنے پر ہمارے تجزیہ نگار پریشان تھے۔
ایسے میں پاکستان کے پاس کیا آپشن تھا۔کیا ہم عرب اتحاد میں جانے سے انکار کر دیتے اور میدان بھارت کے لیے کھلا چھوڑ دیتے۔ کیا پھر ایسا نہیں ہوتا کہ آج مودی ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے ہوتے اور پاکستان باہر ہوتا۔ پھر کیا ہوتا۔ جو تجزیہ نگار آج تنقید کرتے تھک نہیں رہے وہ پھر کیا کہہ رہے ہوتے۔ مودی ٹرمپ کے ساتھ وہاں خطاب کر رہے ہوتے۔ اور عربوں کو بتا رہے ہوتے کہ بھارت میں اتنے مسلمان رہتے ہیں اس لیے بھارت کا مسلمانوں کے ساتھ ایک قریبی رشتہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جو تقریریں ہوئی ہیں۔ان کا رخ پاکستان کی طرف بھی ہو جاتا۔ ہم اپنے دشمنوں کو اپنے خلاف کھل کر کھیلنے کے لیے ایک بڑا میدان دے دیتے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو ہم ایران کے ہمسائے ہیں۔ سرحدی معاملات پر بدمزگی کے باوجود آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ پاکستان کی عرب اتحاد میں موجودگی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بعض ایشوز پر اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب پاکستان افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت کر رہا تھا، تب ایران اس حکومت کا مخالف تھا جب کہ آج ایران افغان طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔ گلبدین حکمت یارایران میں پناہ گزین رہا۔اور آج وہ افغانستان میں ایران کی گیم کھیل رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایران نے یہ سب کچھ پاکستان کی مخالفت میں کیا۔ یہ کام ایرانی حکومت نے ایران کے مفاد کو سامنے رکھ کرکیا ۔ اسی طرح ایران کی بھارت کے ساتھ چاہ بہار بندر گاہ میں شراکت داری پاکستان کی مخالفت میں نہیں ہے بلکہ ایران کے مفاد میں ہے۔ اسی طرح پاکستان کی عرب اتحاد میں شمولیت ایران کی مخالفت میں نہیں ہے بلکہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ایران کو بھی اسی تناظر میں سب کچھ دیکھنا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ اب ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور تعاون کے راستہ بند ہو گئے ہیں بلکہ اب تو ایران اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کے حق میں نہیں ہے اور شاید بالآخر ایران کو بھی یہ سمجھ آجائے گی۔سمجھداری کا تقاضہ تو یہی ہے کہ پاکستان اور ایران بہترین تعلقات کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ اس سے دونوں ملکوں فائدہ ہو گا۔ ایران پاکستان کو اس اتحاد میں اپنے وکیل کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان میں لوگ کلبھوشن کے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی بہت بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان نے بھارت کو گزشتہ ایک ماہ میں عالمی سطح پر ہونے والی دو بڑی کانفرنسوں سے باہر رکھا ہے۔ بھارت چین میں ہونے والی ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس سے بھی باہر رہا اور اب سعودی عرب میں ہونے والی اس کانفرنس سے بھی باہر تھا۔ بھارت دو عالمی اتحادوں سے باہر ہو گیا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان کو اس اتحاد میں شمولیت سے کیا ملے گا۔ اس سوال کا جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا لیکن سب اندازے ہیں تا ہم یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب نے اپنے نئے اتحاد کے حوالے سے امریکا کو ساتھ ملا کر ایک بہترین حکمت عملی اختیارکی ہے جہاں تک پاکستان کے مفاد کا تعلق ہے تو اس کا تحفظ ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس کا حصہ ضرور ملے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف تو پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف اس فوجی اتحاد کے سربراہ ہوں اور پاکستان اس اتحاد میں موجود ہو اور ثمرات پاکستان تک نہ آئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کتنے ہوں گے۔
نیا سعودی اتحاد کتنا کامیاب ہو گا، اس کے اہداف کیا ہوں گے، ان اہداف کے حصول کی حکمت عملی کیا ہوگی، ترجیحات کیا ہوں گی، یہ سب کچھ ابھی سامنے آنا ہے جس کا انتظار کرنا چاہیے۔