سنجے دت اپنی زندگی کی غلط تصویر پیش کرنے پرشدید برہم

ویب ڈیسک  بدھ 21 مارچ 2018
میں نے یاسر عثمان اور جگرناتھ پبلی کیشنز کو اپنی سوانح حیات لکھنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔فوٹوفائل

میں نے یاسر عثمان اور جگرناتھ پبلی کیشنز کو اپنی سوانح حیات لکھنے کا اختیار نہیں دیا ہے۔فوٹوفائل

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے بھارتی مصنف یاسر عثمان کو ان کی زندگی سے متعلق کتاب شائع کرنے اور کتاب میں ان کی زندگی سے متعلق غلط حقائق پیش کرنے پر قانونی نوٹس  جاری کردیا۔

اداکار سنجے دت کی زندگی ابتدا ہی سے اتار چڑھاؤکا شکاررہی ہے۔ کیریئر کی ابتدا میں سنجے دت متعدد اداکاراؤں کے ساتھ تعلقات سمیت منشیات اور اسلحہ کیس میں بھی کئی بار جیل کی ہوا کھاچکے ہیں، تاہم جیل سے رہائی کے بعد سنجے دت نے اپنی پچھلی زندگی کو خیر باد کہتے ہوئے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ہے، لیکن شاید لوگ ان کی پچھلی زندگی کو بھلا نہیں پارہے ہیں۔

بھارت کے نامور مصنف یاسر عثمان نے اداکار سنجے دت کی زندگی پر کتاب لکھی ہے جس کانام ’’سنجے دت؛ ان کہی کہانی‘‘ ہے۔ کتاب میں عثمان نے سنجے دت کی پچھلی زندگی کے تمام رازوں سے پردہ اٹھایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ انہیں اپنی والدہ کی موت کا اتنا زیادہ صدمہ ہواتھا کہ ان کی موت کے تین سال بعد تک سنجے دت روئے نہیں تھے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سنجے دت اور سنی لیون

یاسر عثمان کی کتاب میں پیش کیے گئے مبینہ حقائق پر سنجے دت بالکل خوش نہیں ہیں اور انہوں نے مصنف اورکتاب پبلش کرنے والے ادارے کو قانونی نوٹس بھجوایا ہے،جس کی اطلاع انہوں نے ٹوئٹر پر بھی دی ہے۔

سنجے دت نے لکھا  کہ میں نے یاسر عثمان اور جگرناتھ پبلی کیشنز کو اپنی سوانح حیات لکھنے کا اختیار نہیں دیا، میرے وکیل نے انہیں قانونی نوٹس جاری کیا ہے، جس کے جواب میں جگرناتھ پبلی کیشنز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کتاب میں لکھا گیا مواد مستند اور مصدقہ ذرائع سے لیا گیا ہے۔

سنجے دت نے کہا مصنف نے مواد مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے میرے پرانے انٹرویو سے لیا ہے لیکن 90 کی دہائی کے مرچ مصالحہ چھاپنے والے رسائل اور میگزین میں چھپنے والا مواد حقیقت سے زیادہ تصوراتی خیالات پر مبنی ہوتا تھا، اسی لیے میں نے اپنی قانونی ٹیم کو کہا ہے کہ ان کے خلاف ایکشن لیاجائے۔

سنجے دت نے مزید کہا کہ باضابطہ طور پر ان کی  سوانح حیات بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے جس میں ان کی زندگی کے بارے میں بیان کیاگیا سارا مواد حقیقت پر مبنی ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔