پشاور ہائیکورٹ دواؤں کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ معطل

2رکنی بینچ کا دواؤں کی بلیک مارکیٹنگ کیخلاف گرینڈآپریشن کاحکم،وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے3فروری تک جواب طلب


Numainda Express February 01, 2019
2رکنی بینچ کا دواؤں کی بلیک مارکیٹنگ کیخلاف گرینڈآپریشن کاحکم فوٹو:فائل

پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل 2رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے زندگی بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں 15فیصد اضافے کے احکامات معطل کردیے۔

ہائی کورٹ نے ادویہ سازکمپنیوں کو اضافے پر عملدرآمد سے روک دیا لیکن سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کوادویات کی قیمتوں میں کمی سے روکتے ہوئے فارما کمپنیوں کے خلاف اقدام سے روک دیا ہے۔ جمعرات کو پشاور ہائیکورٹ کے 2رکنی بینچ نے سماعت کے دوران محکمہ صحت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف فی الفورگرینڈ آپریشن کا آغاز کیا جائے اورادویات ذخیرہ کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے۔

عدالت عالیہ کے فاضل بینچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز شہری عصمت اللہ کی جانب سے نورعالم خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کیے ،جسٹس اکرام اللہ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے ؟لوگ مررہے آپ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اگرحکومت یونہی چلتی رہی تو نظام ہینگ ہوجائے گا،بینچ نے ابتدائی دلائل کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے اس پرعملدرآمدروک دیا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ محکموں سے3فروری تک جواب مانگ لیا۔

دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس فیصل آغا پر مشتمل 2رکنی بینچ کے رو برو دواؤں کی قیمتوںمیں کمی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران فائزر کمپنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ 2018ء میں قیمتیں منجمد کر چکی ہے۔حکومت کو کم کرنے کا اختیار نہیں،سپریم کورٹ نے قیمتوں میں کمی سے پہلے ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 ء کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔حکومت نے پالیسی کے خلاف درخواستوں کا جواب داخل کردیا،عدالت نے 12فروری تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار وں کو جواب الجواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔

مقبول خبریں