ہم اور ہمارا اپنا امریکا

امریکا ہمارے بچپنے کا دوست ہے۔ انگریزوں نے ہمیں بادل نخواستہ آزاد کر دیا تو اپنی سابقہ مقبوضات کا بوجھ نہ اٹھا...


Abdul Qadir Hassan October 23, 2013
[email protected]

SWAT: امریکا ہمارے بچپنے کا دوست ہے۔ انگریزوں نے ہمیں بادل نخواستہ آزاد کر دیا تو اپنی سابقہ مقبوضات کا بوجھ نہ اٹھا سکنے کی وجہ سے انھوں نے ہمیں امریکا کی کھرلی پر باندھ دیا اور خود فارغ ہو گئے۔ اب ہم ہیں اور امریکا ہے اور ہم اس کے ساتھ چپکے اور چمٹے ہوئے ہیں۔ ہماری پہلی غیر ملکی مالی امداد امریکا کی تھی۔ اب ہماری ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ جب امریکا کو کہیں خارش ہو تو ہم اسے کھجا دیا کریں اور اس کے عوض انعام مانگ لیا کریں جو امریکا اپنے موڈ کے مطابق ہمیں دے ہی دیا کرتا ہے۔ جدہ میں مجھے جرمنی ٹی وی کا ایک نمائندہ ملا تھا یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکا حال کی طرح ماضی میں بھی کچھ ملکوں پر چڑھ دوڑا تھا اور اس کا خرچہ بیرونی ملکوں سے وصول کیا تھا۔

میں نے جب اس جرمن سے اس کا ذکر کیا تواس نے کہا کہ امریکا کو انکار ممکن نہیں تھا وہ بڑی طاقت ہے لیکن کوئی پندرہ بیس برس بعد ہم اپنے مشرقی جرمنی کو بھی اپنی برابر کی سطح پر لے آئیں گے تو پھر امریکا سے سود سمیت اپنی رقم وصول کریں گے لیکن وہ جرمنی تھا اور ہم پاکستانی ہیں جنھوں نے قومی تعمیر،قومی غیرت اور قومی وقار کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی اور امریکی قرض کے مقابلے میں اپنے آپ کو مستقل گروی رکھ دیا ہے بلکہ بیچ ہی دیا ہے۔اس لیے جب کسی غیرت مند ملک مثلاً جرمنی کے شہری سے کوئی غیرت مندانہ بات سنتے ہیں تو صرف دل میں شرمندہ ہوتے ہیں اور ہمارے سیاستدان تو دل میں بھی شرمندہ نہیں ہوتے بہر کیف فرانس کے جنرل ڈیگال نے جو تاریخی فقرہ کہا تھا کہ امریکا ہر ملک کا پڑوسی ہے وہ دوسرے ملکوں کا پڑوسی ہو گا مگر ہمارا تو وہ دوسرا اور دائولگ جائے تو پہلا گھر ہے۔ اس کی مثالیں پاکستان میں بہت ہیں، کسی کا نہیں اپنا دل دکھانے والی بات ہے ان دنوں البتہ ویزا شرط ہے جو طالبان کے بعد وہ دیکھ بھال اور ٹھونک بجا کر دیتا ہے۔ امریکی پہلے بھی کہا کرتا تھے کہ کسی پاکستانی کی عمر جب پچاس برس کے قریب ہوتی ہے تو وہ بدل جاتا ہے اب تو کسی کے چہرے پر داڑھی ہو تو اسے ویزا نہیں ملتا خواہ اندر سے وہ سیکولر یا سفما بھی کیوں نہ ہو اور جوان بھی۔

ہم پاکستانی جیسے بھی ہیں ان دنوں امریکا میں براہ راست اور بنفس نفیس پہنچے ہیں۔ الیکشن میں ہماری مقبول ترین قومی شخصیت بعض خبروں میں امریکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے ملی ہے۔ امریکیوں نے اپنے اس غریب اور محتاج پڑوسی کی آنکھیں بارہا دیکھی ہیں اور ان میں جو پیغام ہوتا ہے وہ اب امریکیوں کو ازبر ہو چکا ہے۔ اس مستقل پڑوسی سے ہمارا تعلق تو کچھ یوں ہے کہ آئو یا جائو کچھ نہ کچھ دے کر جائو۔ امریکی آئی ایم ایف قرض کے لیے کئی شرطیں لگاتا ہے جو ہمیں یعنی پاکستانی عوام کو تڑپاتی رہتی ہیں لیکن ایک شرط وہ لگانا بھول جاتے ہیں یا ہمارے مالیاتی نمائندوں کی منت سماجت سے مجبور ہو کر عائد نہیں کرتے اور وہ ہے کہ پہلے پاکستانی لیڈر یا پاکستانی حکمران اپنی ملک سے باہر پڑی دولت کو واپس ملک کے اندر لے آئیں اور اسے ملک میں کسی کارخانے وغیرہ میں لگائیں تب ہم مزید امداد دیں گے۔

آئی ایم ایف والوں کو معلوم ہے کہ اگر پاکستانیوں کی دولت واپس اپنے ملک میں آ گئی جہاں سے وہ کبھی باہر گئی تھی تو اس ملک کو قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اس طرح ہم جو مالی مدد دیں گے وہ امداد یا قرض نہیں انعام ہو گی مگر ہم تو قرض لینے کے عادی ہیں کسی انعام کے نہیں۔ اس قرض میں بڑی برکتیں ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سے ہمارے بعض بڑوں کو بار بار غیر ملکی دورے پڑتے ہیں جن پر وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ کبھی قرض ادا کرنے کے دورے کبھی قرض کی ادائیگی کی میعاد بڑھانے کے دورے اور کبھی اس قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض کے حصول کے دورے، غرض دورے ہی دورے۔ ان دوروں کی برکات بے حساب ہیں لیکن بعض برکات کا حساب میرے پاس ہی رہنے دیں تاکہ میں جب کبھی شرمانا چاہوں تو ان کو یاد کر کے شرما سکوں۔

سوال یہ ہے کہ کس کس برکت اور انعام کو یاد کرکے شرمائوں یا کس کو یاد کر کے مسکرائوں۔ گزشتہ حج میں ہمارے محترم و مکرم جناب صدر ممنون صاحب اپنے اہل خانہ، اہل خانہ کے رشتہ داروں اور جناب صدر کے دوستوں اور ان کے خاندان کے بعض افراد کو مفت حج کی سعادت دلوانے کے لیے سعودی عرب لے گئے۔ یہ کوئی تیس عدد کے قریب تھے جن کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ نصیب کیا ہوئی سرکاری طور پر ان کو عطا کر دی گئی، اس پر جناب صدر کے اخراجات کتنے ہوئے ایک اندازے کے مطابق صرف ٹکٹیں پچاس لاکھ روپے کے قریب ہیں۔ ہمیں تو ہر گز ایسا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ہمارے صدر صاحب اس قدر امیر ہیں۔ انھوں نے اپنی آمدنی کے گوشواروں میں اس رقم کا ذکر ضرور کیا ہو گا۔ اور اس کا ٹیکس بھی دیتے ہوں گے کیونکہ وہ جس مرتبے پر فائز ہوئے ہیں اس پر رہنے کے کچھ آداب بھی ہیں اور مالیاتی معاملات میں صاف ستھرا ہونا پہلا ادب اور شرط ہے جو انھوں نے یقیناً پوری کی ہوگی اس لیے حکومت کے متعلقہ محکموں پر لازم ہے کہ جناب صدر کو پاک و صاف قرار دینے کے لیے وہ ان کے مالیاتی امور کے بارے میں اپنی رپورٹ قوم کے سامنے پیش کریں۔

ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے صدر صاحب کے کردار پر کوئی داغ ہو بلکہ ان کی شخصیت کو ہم دیانت و امانت کا نمونہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ پاکستان کی کچھ بدنامی تو دور ہو ورنہ ہم نے دیکھا کہ وزیر، وزرائے اعظم اور صدور سب باکمال لوگ گزرے ہیں جن کی پرواز کی گھن گرج سے ایک دنیا گونج رہی ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے دو وزرائے اعظم کو تو سپریم کورٹ بھی مجرم قراردے چکی ہے مگر ہماری حکومت نے انھیں پوچھا تک نہیں، ان میں سے ایک سے بھی وصولی کر لیں تو آئی ایم ایف سے جان چھوٹ سکتی ہے اور ایسی کئی آسامیاں ملک میں دندناتی پھرتی ہیں۔ کیا امریکا نے ان سے کسی قسم کی باز پرس سے منع کر دیا ہے شاید کوئی ایسی ہی بات ہو۔ واﷲ اعلم بالصواب۔

مقبول خبریں