دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارتی وزیرخارجہ کے پاکستان بارے دیئے گئے ریمارکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے فروغ میں اپنے تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے بالخصوص پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کی پشت پناہی اور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق دستاویزی شواہد موجود ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے، اس کے علاوہ ماورائے سرحد قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو خفیہ معاونت فراہم کرنے کے بار بار سامنے آنے والے واقعات نہایت تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت بدستور جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کےلئے مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور قابلِ ذکر قربانیوں کے ساتھ طے پایا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کے اس کے دعوئوں پر سوال اٹھیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔