یہ کالم نویسی

روز مرہ کے حالات کی رپورٹنگ کرنے والے اخباری رپورٹروں کے مزے ہیں جن کے سامنے خبریں بنانے والے واقعات۔۔۔


Abdul Qadir Hassan December 04, 2013
[email protected]

روز مرہ کے حالات کی رپورٹنگ کرنے والے اخباری رپورٹروں کے مزے ہیں جن کے سامنے خبریں بنانے والے واقعات کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور انھیں ان میں سے اپنی پسند کی خبر بنانے کا موقع ملتا ہے اور جن کی وجہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وطن عزیز میں کل کیا ہوا تھا اور وہ کس حال میں ہے کہ اس کی کل کی بہار پر آج کی بہار کا گمان کریں۔ صاف بات یہ ہے کہ رپورٹر شکار کرتے ہیں اور ہم کالم نویس ان کے بچے کھچے شکار سے کالم کا پیٹ بھرتے ہیں۔ جب کسی دن اخبار نہیں چھپتا تو اس کے اگلے روز کالم لکھنا علم غیب کو بیان کرنے کے برابر ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں آج کی اصطلاح کے مطابق میں بھی ایک سینئر رپورٹر ہوا کرتا تھا حالانکہ صحافت میں کوئی جونیئر اور سینئر نہیں ہوتا اچھا یا برا اخبار نویس ہوتا ہے۔اس زمانے میں سیاسی کالم نہیں ہوا کرتے تھے صرف طنزیہ اور مزاحیہ کالم ہوتے تھے جو عموماً کسی کے نام کے بغیر اخبار کے ادارتی صفحے پر چھپتے تھے۔

یہ راز رہتا تھا کہ یہ کالم کون لکھتا ہے اور اس پر قیاس آرائیاں جاری رہتی تھیں۔ بعض اوقات کسی مصلحت کے تحت جو بات اداریہ میں نہیں کہی جا سکتی تھی وہ اس گمنام کالم میں کہہ دی جاتی تھی اور یوں ایڈیٹر اپنی جان بچا لے جاتا یعنی بات بھی کہہ دی اور جان بھی بچا لی لیکن آج خبریں کم اور ان پر کالم زیادہ ہوتے ہیں اور یہ ہرگز آج کے کالمانہ رواج کے مطابق کوئی تعلی اور اپنی مدح سرائی نہیں کہ سیاسی کالموں کی بدی پہلی بار مجھ سے سر زد ہوئی جو بعد میں میری طرح کئی دوسرے ساتھیوں کے گلے بھی پڑ گئی یہ صرف ایک واقعہ کا بیان ہے اور بس۔ بات یوں ہوئی کہ ذہین و فطین اور خوش کلام بھٹو صاحب عام ملاقاتوں اور خصوصاً ایئر پورٹ پر آتے جاتے کئی ایسی باتیں کہہ جاتے تھے جو نہ تو خبر بنتیں نہ کسی ادارتی موضوع میں آتیں۔ میں نے ایڈیٹر مجید نظامی صاحب سے اس کا ذکر کیا کہ خبریں تو چھپ ہی جاتی ہیں لیکن خبروں کے یہ حاشیے جو بھٹو صاحب لگاتے رہتے ہیں ان کا کیا کیا جائے جب کہ یہ کبھی خبروں سے کہیں زیادہ دلچسپ بھی ہوتے ہیں۔

مشورہ دیا گیا کہ ان باتوں پر کالم لکھا کرو مثلاً ایئر پورٹ پر بھٹو صاحب کی استقبالیہ قطار میں ایک صاحب کے جوتے ان کے سوٹ کے لیے موزوں رنگ کے نہیں تھے اور وہ اس پر پریشان تھے کہ بھٹو صاحب ایسی باتیں نوٹ کرتے تھے۔ ان کو ایک ساتھی نے مشورہ دیا کہ تم بوٹ سامنے بچھے ہوئے قالین کے نیچے چھپا لو۔ بھٹو صاحب اس قطار کو سلام کرتے ہوئے گزرے تو قالین کے نیچے چھپے ہوئے پائوں کی طرف دیکھ کر ان صاحب سے کہا کہ تم ننگے پائوں ہی آ گئے۔ بھٹو صاحب کی رگ ظرافت یا لطافت بھڑکتی تو وہ کسی کو معاف نہیں کرتے تھے۔ کوئی مولوی ہو کر رنگین مشروب میں وہسکی ملاتا تھا کہ پتہ نہ چلے تو اسے وہ مولوی وہسکی کہتے، کوئی ان کا دیا ہوا تحفہ کسی طوائف کو دے دیتا تو اسے کہتے کہ اس کی قیمت دے کر واپس لے لو اور پھر مجھے واپس کر دو۔ کسی ساتھی پر کوئی مہربانی کرتے تو سب کے سامنے اس کو جتلا بھی دیتے اور وہ ایسی گھٹیا حرکت سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ بہر کیف بھٹو صاحب نے میری کالم نویسی کا مواد فراہم کیا جو پھر ایسا چلا کہ میں تو اس ٹریفک میں پھنس کر ہی رہ گیا۔

کالم نویسی رفتہ رفتہ میری ذات کی حد تک میرا ذریعہ معاش بن گئی اور میرے کئی دوستوں کے لیے تفریح کا ذریعہ۔ بعد میں یوں ہوا کہ کوئی افسر سول یا فوج سے ریٹائر ہوا تو سیدھا کسی ایڈیٹر کے پاس پہنچ کر کالم نویسی کا موقع حاصل کر لیا لیکن کسی سرکاری ملازم کے ذہن کی جو ساخت بن چکی ہوتی ہے اس میں کھل کر بات کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اس طرح وہ کالم نویسی کے آزاد یا یوں کہیں کہ بے مہار ذریعے کو داغدار کر دیتے ہیں اس طرح بعض دوسرے لوگ میری طرح عمر کے ایک خاص حصے میں پہنچ کر کالم نویسی شروع کر دیتے ہیں کہ اور کیا کریں۔

اب کالم میں تصویر بھی چھپتی ہے اور نام بھی اور کیا چاہیے۔ میں ایک اخبار میں حسب معمول کالم ہی لکھا کرتا تھا ایک دن ایڈیٹر نے فون کیا کہ آپ کالم کے ساتھ تصویر بھی چھاپیں۔ میں نے اسے ذہنی طور پر قبول نہ کیا اور ٹالتا رہا لیکن ایڈیٹر مصر رہا اور کہا کہ دنیا بھر میں کالم نگاروں کی تصویریں بھی ان کی تحریر کے ساتھ چھپتی ہیں اس لیے آپ بھی تصویر لگا لیں تاکہ دوسرے ساتھی بھی تصویر لگانے لگیں چنانچہ اس طرح تصویر بنوائی گئی جو کالم میں چھپی اور پھر آج تک چھپتی ہی چلی گئی تو آج جو لوگ کالم نویسی میں آ جاتے ہیں وہ پہلے اپنی تصویر کا انتخاب کرتے ہیں ان کا نام تو پہلے سے ہوتا ہی ہے لیکن کالم کا نام تجویز کرنا پڑتا ہے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کالموں کے متوقع اور مروجہ نام اب قریب قریب ختم ہو چکے ہیں اس لیے کوئی جملہ بھی نام بن سکتا ہے۔

کالم کے نام کی حد تک مجھے کوئی الجھن نہ ہوئی۔ شروع میں آسان نام لکھ دیا 'سیاسی باتیں' یہ چلتا رہا تاآنکہ یحییٰ خان کا دور آ گیا۔ ہر فوجی حکمران کی طرح وہ بھی سیاست کے بہت خلاف تھے چنانچہ کسی دن 'بلیک ڈاگ' نامی پسندیدہ وہسکی کا دوسرا تیسرا پیگ چڑھانے کے بعد انھوں نے اپنے ہم نشیں سے کہا کہ بلڈی اخبار والوں کو حکم دو کہ وہ سیاست کا لفظ استعمال نہ کیا کریں چنانچہ یہ حکم پا کر میں نے فوراً ہی 'غیر سیاسی باتیں' سے اپنا سیاسی باتیں والا عنوان بدل دیا۔ خطرہ تو ہمیشہ رہتا ہے کہ کبھی کوئی ایسا بھی آ سکتا ہے جو لغت سے سیاست کا لفظ ہی نکلوا دے لیکن اب تک یہ حادثہ نہیں ہوا مگر کبھی بھی ہو سکتا ہے میں تو صرف 'باتیں' کے عنوان تک ہی تیار ہوں اگرچہ ہر حکمران خواہ سیاسی بھی ہو تب بھی سیاست کے خلاف ہوتا ہے کیونکہ اس کے حریف بھی سیاستدان ہی ہوتے ہیں اور وہ ان کا 'بی' بھی مٹا دینا چاہتا ہے اس ذاتی قسم کی چاہت نے بہت گل کھلائے ہیں۔ ذہن میں لکھنے کا موضوع تو اور تھا لیکن بات کسی اور طرف چلی گئی ان دنوں ذہن کو بھی باہر کی دنیا کی طرح قرار نہیں ہے۔

مقبول خبریں