قومی اسمبلی حکومت و اپوزیشن دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر متفق

خارجہ پالیسی آزاد، صرف ملکی مفادات پر مبنی ہونا چاہیے، شفقت محمود، اویس لغاری، نفیسہ شاہ، شیریں مزاری،عائشہ سید


Numaindgan Express February 26, 2014
شام کیخلاف اسلحے کی فراہمی کی خبریں بے بنیاد ہیں، اس سلسلے میں ہماری غیرجانبداری برقرار رہے گی، مشیرخارجہ سرتاج عزیز۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ملک کی حکمران اوراپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی میں اس بات پرمتفق ہوگئیں کہ ملک کی خارجہ پالیسی آزادانہ اورصرف ملکی مفادات پرمبنی ہونی چاہیے اورشام سمیت کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریزکرنا چاہیے۔

منگل کوایوان میں خارجہ پالیسی پرتحریک پیپلزپارٹی کی شاہدہ رحمانی نے پیش کی بعدازاں اس پربحث کرتے ہوئے تحریک انصاف کے شفقت محمودنے کہاکہ ہمیں نہیں پتاکہ امریکا کیساتھ پاکستان کے تعلقات کس طرح کے ہیں بدقسمتی سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں تاثرزیادہ اچھانہیں،اس وقت ملک مشکلات میں مبتلاہے اوراس ضمن میں خارجہ پالیسی کوئی مددنہیں دے رہی ہے ،اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کواپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ممالک کیساتھ تعلقات کوبڑھاناچاہیے۔ایم کیوایم کے ساجداحمدنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ افغانستان چین ایران کے ساتھ ماضی میں بہت اچھے تعلقات تھے لیکن کمزورخارجہ پالیسیوں کیوجہ سے یہ ممالک دورسے دورتک ہوگئے ہیں۔جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سیدنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ایران اورچین کے ساتھ ہمیں اپنے تعلقات کومزیدبہترکرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ نے کہاکہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہراناچاہیے۔

تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے کہاکہ موجودہ حکومت ابھی تک کوئی خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے سکی۔ جب مشترکہ اعلامیہ میں حکومت نے کہہ دیا کہ شام میں عبوری حکومت قائم کی جائے توپھرکس طرح کہا جارہا ہے کہ ہم نے شام پراپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ۔صاحبزادہ یعقوب نے کہاکہ ہمیں ملک کی ترقی کیلیے آزادخارجہ پالیسی مرتب کرناہوگی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیزنے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کوشام کیخلاف استعمال کیلیے اسلحہ کی فراہمی کے معاہدے کی خبری ںسراسربے بنیادہیں، اس سلسلے میں ہماری غیرجانبداری برقراررہے گی۔ منگل کوقومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے ولی عہدکے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پرمیڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ پاکستان نے شام کیخلاف سعودی عرب کواسلحہ فروخت کرنے کا معاہدہ کیاہے جوسراسربے بنیادہے۔

پاکستان ایک ذمہ دارملک ہے تاہم یہاں سے سعودی عرب کی افواج کوٹریننگ دینے کیلئے ٹرینرجائیں گے۔انہوں نے ایوان میں سعودی ولی عہدکے دورے کے اختتام پراعلامیے کے نکات پڑھ کرسنائے ۔سرتاج عزیزنے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ ہم نے سعودی عرب کے دبائومیں آ کرپالیسی تبدیل کی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ شام ایک آزاداورخودمختارملک ہے ہم اس کی خودمختاری کااحترام کرتے ہیں۔ بعدازاں اجلاس بدھ کی صبح ساڑھے10 بجے تک ملتوی کردیا۔

مقبول خبریں