کراچی کی مقامی عدالت نے بھارتی فلم دھرندھر کیخلاف دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا طریقہ قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی سیشن عدالت جنوبی میں پیپلزپارٹی کے کارکن کی جانب سے دائر بھارتی فلم دھرندھر کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم میں پیپلز پارٹی کی ریلی اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر دکھا کر بدنام کرنے کی گئی جس پر رائٹر، پروڈیوسر اور تمام اداکاروں کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
عدالت نے آج تیسری سماعت پر فلم رائٹر، پروڈیوسر اور اداکاروں کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست مسترد کردی اور فیصلے میں کہا کہ فلم بھارت میں ریکارڈ اور ریلیز کی گئی، پاکستان میں فلم کی اسکریننگ یا ترسیل کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ پاکستان یا متعلقہ تھانے کی علاقائی حدود میں کوئی قابل دست اندازی جرم ثابت نہیں ہوتا، پولیس رپورٹ کے مطابق نامزد ملزمان بھارتی شہری ہیں اور ملزمان کے پاکستان میں رہائشی، کاروباری یا قانونی موجودگی نہیں ہے۔
عدالت نے لکھا کہ یہ معاملہ ریاستی سطح کے امور سے متعلق ہے جسے سرکاری سطح پر وزارت خارجہ کے ذریعے دیکھنا چاہیے، اس درخواست کا مقصد میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت ایسی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتی، درخواست گزار چاہے تو پیمرا یا وفاقی حکومت کے متعلقہ فورمز سے رجوع کرسکتا ہے۔