اردن میں تعینات امریکی سفیر جیمز ہولٹسنائیڈر کو ایک ممتاز سابق سرکاری عہدیدار کی نمازِ جنازہ میں شرکت سے روک دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کے جنوبی شہر کراک کے سابق میئر مرحوم عبداللہ الدیمور کے اہلِ خانہ اور ان کے قبیلے نے امریکی سفیر کو نماز جنازہ میں شرکت سے روکا۔
اہل خانہ اور قبیلے الدمور نے امریکی کو روکنے کا فیصلہ غزہ سے اظہارِ یکجہتی اور اردنی قبائلی روایات کے تحت کیا۔
سابق میئر کے اہلِ خانہ نے کہا کہ امریکی سفیر کو جنازے میں شرکت سے روکنے کی ایک بڑی وجہ امریکی پالیسیاں ہیں جس نے غزہ میں فلسطینی عوام کے قتل، تباہی، بے گھری اور بھوک میں اضافہ کیا۔
اہل خانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا یہ اقدام غزہ اور اس کے عوام سے یکجہتی، بے گناہ شہریوں کے بہتے خون کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس حقیقت کا جواب ہے جس نے نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
الدمور قبیلے کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کی تعزیت کی پیشکش قبول نہیں کی گئی کیونکہ یہ فیصلہ ایک قومی اور اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے یہ فیصلہ اردن کی خودمختاری، آئینی اداروں اور قبائلی اقدار کے احترام پر مبنی ہے جسے سوگ کے اجتماعات کو سیاست اور سفارت کاری سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ امریکی سفیر جیمز ہولٹسنائیڈر نے اکتوبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اردن میں متعدد قبائلی اور سماجی تقریبات میں شرکت کی ہے۔
جن میں قبائلی کونسلوں کے اجلاس، جنازے، شادیاں، کھیلوں اور کمیونٹی تقریبات شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں نے اردن میں بعض حلقوں میں حیرت اور بحث کو جنم دیا ہے، جہاں سفیروں سے عموماً صرف سرکاری اور سفارتی سطح پر روابط کی توقع کی جاتی ہے۔
اس واقعے پر تاحال نہ تو امریکی سفیر جیمز ہولٹسنائیڈر اور نہ ہی امریکی سفارت خانے کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔