متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے نیا قانون چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا نافذ العمل ہوگیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اس قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو والدین کی واضح، تحریری اور قابل تصدیق اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ اجازت کسی بھی وقت اور بغیر کوئی وجہ بتائے واپس لینے کا آسان طریقہ بھی فراہم کرنا ہوگا۔
اس قانون کے تحت بچوں کے ڈیٹا کو کمرشل مقاصد یا ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کمرشل گیمز، جوا اور بیٹنگ پلیٹ فارمز تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت اب والدین اور سرپرستوں پر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور نظم و نسق کی قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔
اس قانون کے بعد بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت محض اخلاقی یا تربیتی معاملہ نہیں رہا بلکہ اسے باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق نقصان دہ آن لائن مواد، ضرورت سے زیادہ ڈیجیٹل مصروفیت اور بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس قانون میں نہ صرف والدین بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر بھی واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمی پر مناسب نگرانی، کنٹرول یا حفاظتی اقدامات نہیں کرتے تو ایک ملین درہم جرمانہ ہوسکتا ہے۔
یہ قانون صرف یو اے ای میں قائم کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ تمام غیر ملکی سوشل میڈیا، گیمنگ ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن سروسز بھی اس دائرہ کار میں آتی ہیں۔
ان پلیٹ فارمز کے لیے بچوں کی عمر کی تصدیق، مواد کی فلٹرنگ، والدین کے کنٹرولز اور بچوں کو نشانہ بنانے والے اشتہارات پر سخت پابندیاں لازمی قرار دی گئی ہیں۔
والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہیں اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے فحش اور نقصان دہ مواد نظر آئے تو حکام کو فوری طور پر آگاہ کریں۔
یاد رہے کہ امارات میں 8 سے 12 سال کی عمر کے 72 فیصد بچے روزانہ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں جبکہ صرف 43 فیصد والدین باقاعدگی سے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔