واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کی ٹائمز آف انڈیا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق سال 2025 میں 23,830 بھارتی شہری غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے۔ جبکہ 2024 میں یہ تعداد کہیں زیادہ رہی اور امریکی حکام نے 85,119 بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے دوران حراست میں لیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والے بیشتر افراد بہتر روزگار اور زیادہ تنخواہ کے حصول کے لیے غیر قانونی راستوں کے ذریعے امریکہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص معاشی اور امیگریشن پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارتی اسمگلرز نے سخت نگرانی والے لاطینی امریکی راستوں کے بجائے کم استعمال شدہ، زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ راستوں کا انتخاب کیا، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور منظم جرائم میں اضافہ ہوا۔
عالمی سیکیورٹی اداروں اور ماہرین نے بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس اور منظم جرائم کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے واضح خطرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مایوسی کے باعث یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔