کامریڈوں کے کرنے کے کام
ظاہر ہے ملک کے عوام اپنے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے۔
جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 کانفرنس کے خلاف عوام کے پر تشدد احتجاج میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے اور لگ بھگ 100 پولیس کے سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ میں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے ٹی وی پر پولیس کو واٹر کینن اور شدت سے آنسو گیس استعمال کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ جی 20 سرمایہ دارانہ نظام کے متولی ممالک کی تنظیم ہے۔
یہ ممالک بلا واسطہ اور بالواسطہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست بنے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہزاروں مظاہرین نے دریائے ایلے کے کنارے اپنا کیمپ لگایا تھا جسے پولیس نے اکھاڑ دیا، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کچھ عرصہ پہلے برطانیہ سے شروع ہونے والی تحریک ساری دنیا میں پھیل رہی تھی کہ اسے بھی سازشوں اور تشدد کے ساتھ ختم کردیا گیا۔
اب جرمنی سے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی تحریک بھی اس لیے وقتی ثابت ہوگی کہ اس کی قیادت غالباً وہ پارٹیاں نہیں کررہی ہیں جو نظریاتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے سخت خلاف ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام انسانی تاریخ کا وہ قہار نظام ہے جس نے دنیا کے 7 ارب انسانوں کو بے دست و پا بناکر رکھ دیا ہے۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں روس کے بکھر جانے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام دنیا کی واحد معاشی سپر پاور بن گیا ہے۔ اس نظام کے مظالم کا احاطہ کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ مظالم دنیا کے کونے کونے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ہونے والا ہر ظلم خواہ اس کی نوعیت کچھ ہی کیوں نہ ہو سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔
یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نظریاتی مخالفین کمیونسٹ پارٹیاں اس حوالے سے عضوِ معطل بنی ہوئی ہیں اور اسی جرم کے نتیجے میں یہ پارٹیاں عوام کی حمایت سے محروم ہیں، اگر آج بھی یہ پارٹیاں جمود کو توڑ کر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں تو اس نظام کے ستائے ہوئے اربوں عوام ان کے پیچھے کھڑے ہوجائیں گے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف دنیا میں جو موثر نظام مارکس نے پیش کیا ،اسے ہمارے دوستوں نے آسمان کا لکھا بناکر رکھ دیا کہ اس میں حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کے بنیادی اصولوں کو نہ چھوڑتے ہوئے تبدیلیاں کرنا بھی گناہ سمجھا گیا۔ مارکسزم بذات خود حرکت کا نام ہے اور اس کی ہر حرکت وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے لیکن اسے ہم عوام کی بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ مارکس اور اینجلز کے بعد اس نظام کوکوئی ایسا نظریہ ساز نہ ملا جو اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے حتیٰ کہ روس اور چین جسے مارکسزم کے گڑھ جیسے اس حوالے سے بانجھ ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جدید تاریخ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف سوائے مارکسزم کے کوئی نظام ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جو عوام کو سرمایہ دارانہ استحصالی سے بچاسکے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی روح منافع مقابلہ اور ارتکاز زر کی آزادی ہے اور مارکس کی خوبی یہی تھی کہ اس نے اپنے فلسفے میں ان آزاروں کو ختم کرکے رکھ دیا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے کرپٹ سرپرست اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا نظام اب تک متعارف نہ کیا جاسکتا جو اس کے لیے خطرہ ثابت ہوسکے اس لیے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست مارکسزم کو اپنے گلے کا پھندا سمجھتے ہیں کہ مارکسزم لا محدود نجی ملکیت کا راستہ روک دیتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی اساس ہے۔ جس کے ذریعے بالا دست طبقات لوٹ مارکرتے ہیں اور قوم کی اجتماعی دولت مٹھی پھر بالادست طبقات کے ہاتھوں میں مرکز ہوکر رہ جاتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی لازمی ضرورت اسلحہ سازی ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے نظریہ ساز جنگوں کے کلچرکو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں، اسلحہ سازی کے ساتھ فوج ایک لازمی ضرورت بن جاتی ہے آج آپ کسی ملک پر نظر ڈالیں آپ کو فوج لازمی طور پر نظر آئے گی۔ سرمایہ داروں نے فوج رکھنے کا جواز یہ بنایا ہے کہ فوج ہی ملکی سالمیت اور قومی مفادات کی محافظ ہوتی ہے۔ بلا شبہ ہر ملک کی جغرافیائی حدود کا تحفظ ضروری ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملکی سالمیت کو خطرہ کس طرف سے پیدا ہوتا ہے اورکیوں ہوتا ہے؟
ظاہر ہے ملک کے عوام اپنے ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے۔ خطرہ بنتے ہیں وہ مفادات جو سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ ہوتے ہیں اور اس حوالے سے بڑے سرمایہ دار ملک اور اسلحے کی صنعت کے مالکان کروڑوں کے معاوضے پر ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو ملکوں کے درمیان ایسے تضادات پیدا کردیتے ہیں کہ ایک ملک دوسرے کے ساتھ جنگ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
ہم نے جرمنی کے شہر ہیمسبرگ میں جی 20 کانفرنس کے دوران ہونے والے پر تشدد مظاہروں کی خبروں سے کالم کا آغاز کیا تھا۔ یہ مظاہرے صرف جی 20 کانفرنس کے خلاف نہ تھے بلکہ اس نظام کے خلاف تھے جو جی 20 پیدا کرتا ہے۔ میں حیران رہتا ہوں کہ کامریڈ حضرات ساری زندگی یکم مئی، حسن ناصر اور کانگریس منعقد کرنے میں بتادیتے ہیں۔ یوم مئی کے مظالم حسن ناصر کی شہادت کے پیچھے سرمایہ دارانہ نظام کھڑا ہے اگر کامریڈ حضرات جرمنی کی اتباع میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تحریکیں چلائیں تو عوام بھی ان کے ساتھ ہوںگے اور سرمایہ دارانہ نظام سے عوام کو چھٹکارا دلانے کا راستہ بھی ہموار ہوجائے گا۔