پاک امریکا تعلقات کی کہانی

امریکا کے ساتھ اس قدر نازک اور خراب تعلقات کی ذمے داری صرف سیاستدانوں پر ڈالنا بھی زیادتی ہے۔


مزمل سہروردی August 29, 2017
[email protected]

پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک مرتبہ پھر نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ویسے تو یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاک امریکا تعلقات کسی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم اس کے عادی ہیں لیکن ا س بار ٹرمپ نے صورتحال کو زیادہ نازک کر دیا ہے۔ شاید ہمیں ٹرمپ کا اندازہ نہیں کہ وہ کس حد تک جائے گا۔ اس لیے شکوک و شہبات اور خدشات زیادہ ہیں ورنہ جب بھی یہ تعلقات کسی نہ کسی شکل میں غیر مستحکم ہوئے ہیں، دونوں فریقین نے اتنی احتیاط ضرور کی ہے کہ ریڈ لائن کو عبور نہ کیا جائے۔ تا ہم اس بار خطرات شدید ہیں۔

مجھے امید ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کے دورہ کی منسوخی کی وجہ وہ نہیں ہے جو میڈیا میں آئی ہے۔اور بیک چینل پر جو بات ہو رہی ہے اس کے طے ہونے کے بعد یہ دورہ دوبارہ شیڈو ل ہو جائے گا۔ ابھی امریکا اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے تا کہ وہ ہم سے اپنی شرائط منوا سکے۔ امریکا کو ہم سے شرائط منوانی آتی ہیں۔ اس نے ہمیشہ منوائی ہیں۔ اس لیے میرے نزدیک فکر کی کوئی بات نہیں ۔ معاملہ طے ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ لیکن بات بگڑنے کے پہلو کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تو ہم نے امریکا کے ساتھ ڈیل کرتے وقت ہمیشہ ہی احتیاط برتی ہے۔ امریکا نے کبھی ہمیں اتنا فری ہی نہیں کیا کہ ہم بے احتیاطی کر سکتے۔

امریکا کے ساتھ دوستی بننے اور ٹوٹنے کے بہت سے ادوار ہیں۔ ہمیں انکار نہیں کرنا چاہیے، ایڈ بھی ملتی رہی ہے اور پابندیاں بھی لگتی رہی ہیں۔ امریکا خود کہتا ہے کہ اس کے نہ تو کوئی مستقل دوست ہیں اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن۔ اسی لیے نہ ہم امریکا کے مستقل دوست ہیں اور نہ ہی مستقل دشمن۔ جب امریکا کی ضرورت ہوئی ہے اس نے ہم سے دوستی کر لی ہے اور جب ضرورت ختم ہوئی ہے اس نے دوستی کو دشمنی میں تبدیل کردیا ہے۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ نہ جانے ہم لوگ شور کیوں مچا رہے ہیں۔ یہ تو ہر دس سال کی کہانی ہے۔

امریکا کے ساتھ اس قدر نازک اور خراب تعلقات کی ذمے داری صرف سیاستدانوں پر ڈالنا بھی زیادتی ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے چار سال وزیر خارجہ نہیں رکھا اس لیے تعلقات خراب ہو گئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے' امریکا کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ جب وزیر خارجہ موجود تھے اس وقت بھی اور جب نہیں تھا، اس وقت بھی۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ اور کشیدگی پر بات کرتے وقت ہم نہ جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہمارے کبھی بھی افغان اسٹبلشمنٹ سے اچھے تعلقات نہیں رہے۔ چاہے پاکستان کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہو یا لیاقت علی خان کے قتل کا معاملہ افغانستان تاریخی طور پر ہمیشہ پاکستان کے خلاف ہی استعمال ہوا ہے۔

جہاں تک افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد کے بعد پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تواس پالیسی کی کامیابی و ناکامی کا بھی تمام تر سہرا جنرل ضیاء الحق کے سر ہی ہے۔ یہ تمام فیصلے جنرل ضیاء الحق نے کیے ۔ افغان مہاجرین کو خوش آمدید کہنا۔ جہادی تنظیموں کی نرسری۔ ٹریننگ۔ یہ سب کسی سیاستدان کے فیصلے نہیں ہیں بلکہ ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں کے ہیں۔ اس بات سے قطع تعلق کہ پاکستان کو ان فیصلوں سے زیادہ فائدہ ہوا یا زیادہ نقصان۔ان فیصلوں کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ سب ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ تب ہمیں یہ سمجھایا گیا تھا کہ افغانستان ہماری اسٹرٹیجک ڈیپتھ ہے۔ ہم نے روس کو روک کر پاکستان کو محفوظ کیا ہے۔ ہم نے روس کی گرم پانی تک رسائی روک دی ہے۔ کمیونزم کو دفن کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی مولانا مودودی کا وہ قول سناتی تھی کہ ایک دن کمیونزم کو روس میںپناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارنہ نظام کو واشنگٹن میں پناہ میں نہیں ملے گی، وہ فخر سے کہتے تھے کہ آدھا قول سچا ہو گیا باقی آدھے کی تیاری ہے۔

آج جن طالبان کی وجہ سے ہم مشکل میں ہیں۔ ضرب عضب اور رد الفساد کرتے پھر رہے ہیں۔ کیا ان طالبان کی پیدائش کی ذمے داری بھی اسٹیبلشمنٹ کو نہیں اٹھانی چاہیے۔ بے شک افغانستان میں طالبان کی حکومت محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں قائم ہوئی لیکن دنیا جانتی ہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کی پالیسی نہیں تھی۔ کون افغانستان میں حکمت یار اور ربانی کی صلح کراتا رہا۔ کون پھر حکمت یار کو پاکستان سے نکالتا رہا ۔ ملا عمر کس کی پراڈکٹ تھی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ سب غلط پالیسیاں تھیں۔

یہ دلائل بھی کم وزن دار نہیں ہیں کہ ان معروضی حالات میں یہ اس وقت کی بہترین پالیسیاں تھیں۔ جس سے پاکستان کو بہترین فوائد حاصل ہوئے ہیں۔آج جب ان کے نقصانات سامنے آرہے ہیں تو ہم ان کے فوائد کو کیوں بھول رہے ہیں۔ میری صرف اتنی درخواست ہے کہ جنہوں نے یہ پالیسیاں بنائیں' انھیں اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں تسلیم کرنی چاہئیں۔ یہ کوئی بلیم گیم نہیں ۔ صرف حقائق کی درستگی کے لیے ہے۔

اسی طرح نائن الیون کے بعد جب مولانا مودودی کے دوسرے قول پر عمل کا وقت آیا کہ سرمایہ دارانہ نظام پر واشنگٹن میں حملہ ہو گیا تو ہم نے دوبارہ امریکا کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ بھی کسی پارلیمنٹ میں نہیں ہوا تھا۔ یہ جنرل پرویز مشرف کا فیصلہ تھا۔ ہم ایک فون کال پر امریکا کے اتحادی بن گئے۔ ہم نے ڈرون حملوں کی اجازت دی۔ فضائی اڈے دیے۔ سب کچھ دے دیا۔ بندے پکڑ پکڑ کر دیے۔ نیٹو کو سپلائی روٹ دیا۔نان نیٹو اتحادی بن گئے۔ امریکی صدر چھ دن میں تین بار پاکستانی صدر کو ملنے لگا۔

اقوام متحدہ میں ہماری چوتھی تقریر تھی۔ ہم دنیا کے لیڈر بن گئے۔ پھر یہ جنرل پرویز مشرف ہی تھے جنہوں نے جہادیوں سے امن معاہدے شروع کیے۔ امریکیوں کو تب بھی اس پر تحفظات تھے لیکن ہماری ضرورت زیادہ تھی اس لیے تحفظات کا دبے لہجے اظہار کیا جاتا۔ آج ضرورت کم رہ گئی ہے تو تحفظات دھمکیوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ہم نے جو کیا ہے اس کی فصل تیا ر ہے۔ اگر ہم نے وقتی فائدوں کے لیے لمبے نقصان کی پرواہ نہیں کی تو آج نقصانات کی فصل تیار ہے۔ یہ ہم نے ہی کاٹنی ہے۔ ہم اس سے بھاگ نہیں سکتے۔ ا س وقت کوئی تیزی دکھانے کی ضرورت نہیں۔صرف ذمے داری قبول کرنے کی ہے۔

مقبول خبریں