US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
اب دیکھنا ہوگا کہ 23دسمبر کو کیا سب کچھ ایسا ہی ہوگا جیسا عمران خان نے نقشہ کھینچا ہے
مسئلہ سیاسی نظام میں ٹکراؤ یا اختیارات کے نام پر سیاسی جنگ کا نہیں
یہ سیاسی تقسیم محض سیاست، سیاسی جماعتوں، قیادت، سیاسی کارکنوں، ان کے سپورٹرز تک محدود نہیں
بڑے کاروباری طبقات حکومت کے سامنے دہائی دے چکے ہیں کہ ان حالات میں معاشی ترقی کے نعرے سوائے جذباتیت کے اور کچھ نہیں
ہمارے رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے بانجھ پن سے باہر نکلیں، حالات کا مقابلہ کریں اور لوگوں کو تیارکریں
اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے طرزعمل میں تبدیلی لائیں اورکچھ کرکے دکھائیں وگرنہ حالات کے بگاڑاورنقصان کے ہم ہی ذمے دارہونگے
ق لیگ کی ایک بڑی خوبی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عدم ٹکراو کی پالیسی ہے
جو تضاد اور تقسیم معاشرے میں موجود ہے اس سے نمٹے بغیر آگے کا راستہ مشکل ہوگا
جب تک قدرتی آفات سے نمٹنا حکومت کی ترجیح نہیں بنے گی،کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا ہے