کٹاس راج مندر کی خراب حالت پر چیف جسٹس برہم

جن فیکٹریوں نے قدرتی حسن تباہ کیا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، چیف جسٹس


Numainda Express December 13, 2017
مندر میں مورتیاں نہیں، دنیا میں کیا تاثر جائے گا، ریمارکس۔ فوٹو:فائل

PERTH: سپریم کورٹ نے چکوال میں سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے ہندوؤں کے مقدس کٹاس راج مندر کا تالاب خشک ہونے پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضلع چکوال کی نجی فیکٹریوں کے مقدمات کی فائلیں منگوا لیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے گزشتہ روز دوران سماعت نجی سیمنٹ فیکٹری بیسٹ وے کے ٹیوب ویل بندکرنے کاحکم دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں آنے کے بعدکوئی عدالت ان مقدمات کونہ سنے، عدالت نے شری رام، ہنومان مندر نہ کھولنے پربھی متروکہ وقف املاک سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تباہی کے بعد ہی حکومت کوسب یادکیوں آتاہے، جن فیکٹریوں نے قدرتی حسن تباہ کیا ان کو اس کاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کٹاس راج میں رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا انتظامیہ لاپرواہی کر رہی ہے۔ اس مندر میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے ہندو برادری مذہبی رسوم ادا کرنے آتی ہے لیکن جب اس مندر میں مورتیاں نہیں ہوں گی تو وہ اقلیتی برادری کے لوگ پاکستان سے کیا تاثر لے کر جائیں گے، کٹاس راج مندر اصل حالت میں نہیں۔

پنجاب حکومت کے نمائندے نے بتایا کہ اس علاقے میں 4سیمنٹ فیکٹریاں ہیں جن میں بیسٹ وے ، غریب وال اور ڈی جی خان سیمنٹ شامل ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ مندرکا جتنانقصان بیسٹ وے نے کیاکسی اورفیکٹری نے نہیں اس لیے ڈی سی چکوال اس فیکٹری کے تمام ٹیوب ویل بندکریں۔

محکمہ اوقاف کے وکیل نے کٹاس راج مندرکی حالت خراب کی ذمے داری پیپلز پارٹی کے دور میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ آصف ہاشمی پر ڈالی توچیف جسٹس نے پوچھا ملزم کو ابھی تک گرفتارکیوں نہیں کیا گیا، وکیل نے بتایا کہ وہ ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔

عدالت نے آصف ہاشمی کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ریڈوارنٹ جاری نہ ہونے پرکیوں نہ سیکریٹری داخلہ اورخارجہ کوطلب کرلیں ۔ عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے عملی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں طلب کرلی۔

مقبول خبریں