بینڈ ماسٹر کے بعد اور صدر صاحب کی وضاحت

اصل سوال تو یہ پیدا ہوا ہے اور کھڑا ہوا ہے کہ جناب وزیراعظم امریکا کے اس بہت مہنگے دورے پر کیوں تشریف لے گئے تھے۔


Abdul Qadir Hassan October 26, 2013
[email protected]

اصل سوال تو یہ پیدا ہوا ہے اور کھڑا ہوا ہے کہ جناب وزیراعظم امریکا کے اس بہت مہنگے دورے پر کیوں تشریف لے گئے تھے۔ اگر بات اتنی ہی تھی کہ ڈرون حملوں کے بند کرنے کے مطالبے پر غور کرنا تھا اور شرمندہ کرنا تھا کہ یہ حملے تو آپ کی اجازت سے ہو رہے ہیں، عافیہ کی رہائی کے بارے میں صرف سن لینا تھا اور مزید بات کرنے سے انکار کرنا تھا جو امداد ملنے والی ہے اس کا اعلان دورے سے پہلے ہی ہو گیا تھا اور ماہرین مالیات اس کی اصلی مالیت کی حقیقت پر غور کر رہے ہیں اور اس بات پر کہ کیا یہ ہمارے خرچے کی واپسی تھی۔ اس کے علاوہ تو جو ملاقات ہوئی وہ اصل میں افغانستان سے امریکی انخلاء میں سہولت فراہم کرنی تھی کیونکہ امریکی واپسی کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے۔

افسوس کہ ہم اپنی اس منفرد جغرافیائی پوزیشن کو ٹھیک سے فروخت بھی نہیں کر سکتے۔ اس خطے میں کوئی زمینی کارروائی ہماری مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی بلکہ آسمانی کارروائی کے لیے بھی ہماری مرضی درکار ہے۔ امریکا ہم پر حملہ آور ہے اور ہم دنیا کی وہ منفرد قوم ہیں جو اپنے اوپر حملے کو قبول کرتے ہیں، خیر مقدم کرتے ہیں اور ناراض نہیں ہوتے۔ ایک پنجابی علاقے کے ان معززین کی طرح جن کو نئے تھانیدار نے مرعوب کرنے کے لیے بلایا، ایک قطار میں کھڑا کیا اور ان پر بلا وجہ چھتر برسانے شروع کر دیے۔ تھانیدار تھک کر رکا تو ان معززین کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اب اسی پوزیشن میں کھڑے رہیں یا بیٹھ جائیں چنانچہ ایک تگڑے زمیندار نے ہمت کر کے پوچھا کہ جناب اک پھیرا پھر بھی آئو گے یا پگڑیاں سر پر رکھ لیں۔ ہمارے فارن آفس نے کہا ہے کہ شاید پہلے تو کوئی مفاہمت تھی لیکن اب ڈرون حملوں کی کوئی پیشگی منظوری نہیں ہے سب امریکا کی مرضی ہے۔

امریکی دورے کے بارے میں جو جستہ جستہ اطلاعات ملی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے فضول میں اتنا خرچہ کر لیا اور اپنے دوست امریکیوں کا وقت بھی ضایع کیا ہے علاوہ ٹکٹوں وغیرہ کے اخراجات کے، خصوصی لباس کا خرچہ الگ ہوا ہے۔ سب نے سیاہ سوٹ اور ایک جیسی نیلی ٹائیاں باندھی ہوئی تھیں۔ اوباما صاحب کا لباس بھی یہی تھا۔ اوباما کا یہ سوٹ بھی غالباً اکلوتا ہی ہو گا۔ کچھ عرصہ قبل ایک امریکی صدر ریگن زخمی ہو گئے۔ اس صدارتی حادثہ کے وقت امریکا کی سیکیورٹی میں ایک ہیجان برپا تھا لیکن زخمی صدر بار بار پوچھتے تھے کہ میرے سوٹ کا کیا حال ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک ہی ہے۔ امریکی صدر جو دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند ملک کا سربراہ ہوتا ہے ایک ہی سوٹ میں گزارا کرتا ہے لیکن ہمارے لیے یہ کوئی پرابلم نہیں ہے۔ قرض کی پیتے ہیں اور ڈٹ کر پیتے ہیں اور اب تو ہم نے اپنی اس فاقہ مستی کے رنگ لانے سے ڈرنا بھی ختم کر دیا ہے۔ ہم کھرب پتی حکمران ہیں اور جب چاہیں اربوں کے ٹیکس لگا کر ان میں عوام کی چیخوں کے رنگ بھر دیتے ہیں کہ اس چیخ و پکار کی موسیقی سے لطف دوبالا ہو۔

لباس کا یہ رنگ ایک عوامی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اختیار کیا تھا جو ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اقتدار میں آتے ہی بھٹو صاحب نے اپنی اور پارٹی کے تمام لیڈروں وزیروں مشیروں وغیرہ کے لیے ماوزے تنگ کے اسٹائل کا لباس اختیار کیا یعنی پتلون اور جودھ پوری کوٹ مگر کالر پر خاص انداز کی کشیدہ کاری والی پٹی، اسی طرح بازوئوں پر بھی کوٹ کے گھیرے پر نیچے بھی اور بٹنوں والی جگہ پر بھی نقش و نگار والی پٹی، پتلون پر بھی ایک پٹی اوپر سے نیچے تک جاتی تھی جو بہت نمایاں ہوتی تھی۔ تمام وزیر مشیر اسمبلیوں کے اراکین اور پارٹی کے اعلیٰ لیڈر یہ سب مرصع لباس زیب تن کرتے تھے۔ ان میں بھٹو صاحب ان نقش و نگار کے اعتبار سے منفرد تھے۔ وہ اس لباس میں اقتدار کے دو تین دن بعد لاہور آئے اور انھیں دیکھتے ہی مجھے یوں لگا جیسے یہ کسی بینڈ ماسٹر کی وردی ہے چنانچہ میں نے بینڈ ماسٹر کے عنوان سے کالم لکھا۔ میرے ایڈیٹر مجید نظامی نے اپنی حس مزاح کی دھن میں یہ کالم جوں کا توں چھاپ دیا۔

ہمارے مرحوم دوست خالد حسن بھٹو صاحب کے پریس سیکریٹری تھے۔ انھوں نے صبح صبح ہی یہ کالم صاحب کے سامنے پیش کیا۔ بھٹو نے فوراً ہی اپنی پتلون کی یہ پٹی اتروانے کی ہدایت کر دی۔ بھٹو صاحب کو اپنے لباس کی بہت فکر رہتی تھی۔ یہ کالم اس وقت بہت مشہور ہوا اور بھٹو صاحب کے اس فوری ردعمل کی داد بھی دی گئی۔ ہمارے نئے وزیر اعظم نے فی الوقت صرف سیاہ سوٹ اور سبز منقش ٹائی پر گزارہ کیا ہے جو ان کی پوری ٹیم کا لباس ٹھہرا تھا۔ ٹی وی پر یہ سب حضرات ایک قطار میں ایستادہ اور نشستہ دیکھے، پہچاننا مشکل تھا کہ اس لباس میں یہ کون ہے۔ خود وزیر اعظم بھی اگر الگ سے نہ کھڑے ہوتے تو ان پر بھی ان کے وفد کے کسی رکن کا گمان گزرتا۔ بینڈ ماسٹر بھٹو کے بعد آنے والے وزیر اعظم نے صرف روایتی لباس کے رنگ بدلنے پر اکتفا کیا ورنہ وہ موتیوں اور سچے سونے کی تاروں والا لباس بھی پہن سکتے تھے اور کیا معلوم کہ کسی موج میں آ کر یہ لباس امریکیوں کو تحفہ میں دے آتے کیونکہ ہمارے بڑے لوگ بعض اوقات اقتدار کے نشے میں بے سدھ بھی ہو جاتے ہیں لیکن میاں صاحب نے ایک معزز مہمان کی وضعداری نبھائی۔

ایسی ہی ایک واردات حالیہ حج بیت اللہ شریف کے موقع پر بھی ہوئی اور ہمارے صدر محترم کوئی پینتیس کے قریب عزیز و اقارب اور دوست احباب کو لے کر خدا کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ یہ کمرشل جہاز سے گئے تھے اور ان کی ٹکٹوں کی مالیت کوئی پچاس لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ کچھ دیگر معلومات بھی تھیں جو میں نے صدر صاحب کے نئے نئے ہونے کی وجہ سے حذف کر دیں لیکن یہ بات تو واضح ہوئی کہ اس اقتدار نے صدر صاحب کو ہی بے سدھ کر دیا تھا۔ ایوان صدر سے ان کے تعلقات عامہ یعنی پریس سیکریٹری محترمہ صباء محسن کی وضاحت موصول ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ جناب صدر اور ان کے رشتہ داروں نے اپنے خرچہ پر حج کیا ہے اور وہ کمرشل فلائٹ سے گئے ہیں، بعد میں سعودی حکومت نے ان کو اپنا مہمان بنا لیا لیکن ان کے دوستوں وغیرہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ وضاحت کس بات کی گئی ہے، اصل سوال یہ تھا کہ ان کے وفد کے اراکین جن میں ان کے خاندان کے علاوہ ان کے دوست اور ان کے رشتہ دار اور بہت سے لوگ شامل تھے، ان کا بھاری خرچہ وغیرہ کس نے دیا۔ سرکاری خزانے سے دیا ہے تو کیوں، اگر جیب سے دیا ہے تو وہ کہاں سے آیا اور ان کے آمدنی کے ریکارڈ میں اس کا کوئی ذکر اذکار۔ میں صدر صاحب کے شعبہ اطلاعات سے کہوں گا کہ وہ ایسے کمزور معاملات پر مٹی ڈال دیا کریں، اچھالیں نہیں۔ یہ مشورہ ضرور قبول لیں اور حاضری لگوانے کے لیے دوسرے بے ضرر معاملات پر توجہ دیا کریں۔

مقبول خبریں