جائیں تو جائیں کہاں
کوئی نصف صدی پہلے جب دل و دماغ میں پاکستانیت کا احساس پیدا ہوا اور اس عمر میں اپنے آپ کو پاکستانی کے نام اور...
فیصل آباد:
کوئی نصف صدی پہلے جب دل و دماغ میں پاکستانیت کا احساس پیدا ہوا اور اس عمر میں اپنے آپ کو پاکستانی کے نام اور قومیت سے پہچاننے لگے تو ڈر خوف تو دور کی بات ہے، یوں لگتا تھا جیسے ہمارے ایمان اور اپنی پاکستانیت پر بے پناہ یقین سے پوری دنیا ہم سے خوفزدہ رہتی ہے لیکن ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے پاکستانی کھلے نیلے آسمان کو کون چُرا لے گیا کہ ہماری بچی نیلم رونے لگی کہ اب میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ پاکستان کے نیلے کھلے آسمان کے نیچے کیسے کھیلوں گی کہ جب بھی بادل نہیں ہوتے تو کسی کے ڈرون جہاز ہم پر بم برسانے لگتے ہیں۔ اس کی اس بات نے دنیا کو رُلا دیا لیکن ہم پاکستانی رونے کی ہمت بھی نہ پا سکے۔ ہماری کمزوری اس انتہا کو جا پہنچی کہ ہول سے آنکھیں خشک ہو گئیں۔ زبانیں گُنگ ہو گئیں اور ہم بے سُدھ اور نڈھال ہو گئے۔ جن دشمنوں کو ہم کبھی اپنے رحم و کرم پر سمجھتے تھے آج وہ ہمیں اپنے رحم و کرم پر سمجھنے لگے ہیں بلکہ بھارتی صحافیوں کی وہ بات میں دہرائوں گا کہ پاکستان کا ذکر چھوڑئیے اب یہ قابل ذکر نہیں ہے۔
لگتا ہے کہ اس کے پیچھے چند حقائق تھے جن میں امریکا کی پاکستان دشمنی پوری طاقت کے ساتھ کارفرما تھی اور پھر مجھے ایک پرانی بات یاد آئی جو پاکستان جیسے بدترین حالات سے گزری ہوئی ترک قوم کے بارے میں کبھی برطانوی وزیر اعظم گلیڈ اسٹون نے کہی تھی اور ترکوں کو ''ناقابل ذکر ترک'' کہا تھا یہ جملہ ترک دشمنوں میں عام رائج ہو گیا ایک ضرب المثل کی طرح۔ آج بھارتی ہمیں ناقابل ذکر پاکستانی کہتے ہیں۔ برطانوی سیاستدان نے ترکوں کے زوال کے وقت یہ کہا تھا۔ آج ہمارے بھارتی بھی ہمیں ہمارے زوال کے وقت یہ کہہ رہے ہیں۔ ترکوں کے بداعمال حکمرانوں نے ایک طویل حکمرانی اور ایک سپر پاور کی بساط اپنے منحوس ہاتھوں سے لپیٹتے ہوئے اپنے ملک کو اس حال تک پہنچایا تھا کہ وہ ان کے دشمنوں کے لیے مذاق بن گیا۔ آج امریکا مسلسل اعلان کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کی ایٹمی طاقت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ امریکا کے طاقت ور حکمرانوں نے جن کی طاقت بے مثال ہے اور جن کی دولت بے اندازہ ہے فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ اب پاکستان کا قصہ تمام کر دیں گے۔ زیادہ سے زیادہ اتنا ہو گا کہ یہ ملک ایک مشرقی ریاست بن کر بھارت کی نگرانی میں رینگتا رہے گا۔ وہ بھی اس لیے کہ پاکستان کا کمزور ترین وجود بھارت کے لیے مفید ہے ورنہ وہ آزادی کا مزا لینے والے مسلمانوں کو قابو نہیں کر سکے گا۔
مایوسی گناہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، لیکن اس کے بداعمال اور گھٹیا بندوں سے مایوسی ہرگز گناہ نہیں۔ آپ کا پتہ نہیں میں تو اب ہر روز ایسی وحشت ناک خبریں پڑھتا ہوں کہ بستر سے اٹھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ مجھے تو اپنا گھر بار لٹنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ میرے عزیز دوست رئوف طاہر کی بیگم وفات پا گئیں۔ ایک طویل خوفناک بیماری سے نجات پا گئیں لیکن اس دوران ان کے گھر میں دو بار ڈاکہ پڑا جو بیماری سے بچ گیا تھا وہ بھی لٹ گیا۔ میرے دوست حکمرانوں کے جانے پہچانے ہیں۔ خصوصاً سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کے رابطے میں رہے لیکن وفاق اور پنجاب کی حکمرانی ان کے گھر کی حفاظت نہ کر سکی۔ انسانوں نے جنگلی زندگی ترک کر کے متحدہ زندگی اپنے روز و شب کو منظم کرنے کے لیے اختیار کی تھی اور حکومتوں کا اولین فرض عوام کی جان و مال کی حفاظت قرار دیا تھا۔
پاکستان میں عوام کی جان و مال کی جو حالت ہے وہ ہم سب کو دن رات خوفزدہ رکھتی ہے۔ کراچی جیسے مرکزی شہر پر تو کسی حکومت کا گمان بھی نہیں گزرتا۔ بس جس پاکستانی کا گھر محفوظ ہے اور جو خود زندہ ہے وہ محض اتفاق سے ہے ورنہ اس میں حکومت اور انتظامیہ کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کی زندہ مثال اسلام آباد کا وہ پرانا واقعہ ہے جس میں ایک باغی شخص دن بھر پورے اسلام آباد کی ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور وزیر داخلہ صاحب کو تنگ کرتا رہا اور آئی جی تک یہ سب دیکھتے اور انجوائے کرتے رہے۔ اس واقعہ کو میں نے ٹی وی پر دیکھا اور یقین کر لیا کہ اگر سلامتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی مہربانی سے یا پھر ان ذاتی وسائل سے جو اللہ نے عطا کیے ہیں کیونکہ میں کسی مہذب اور متمدن آبادی کا باشندہ نہیں ہوں اور ابھی تک کسی جنگل میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔
میں آج اپنی حالت یعنی اپنے وطن عزیز کی حالت دیکھ کر ان تمنائوں، ارادوں اور عزائم کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جو برصغیر کے مسلمانوں نے اس ملک کے وجود میں آنے پر اپنے دلوں میں آباد کیے تھے۔ مجھ میں اب رونے دھونے کی ہمت باقی نہیں رہی اور نہ ہی میں آپ کو مزید دکھی کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے حکمرانوں سے عرض کرتا ہوں کہ اللہ اور رسول کا واسطہ جس نے آپ کو اقتدار دیا ہے کچھ تو خلق خدا کا خیال کریں اور ملک میں موجود تو رہیں تا کہ پاکستانی اس امید پر زندہ رہیں کہ ان کے ووٹوں سے اور لاتعدد ووٹوں سے جو حکمران بنے ہیں وہ کچھ کریں یا نہ کریں دلاسہ دینے کے لیے تو ان کے پاس موجود رہیں۔
مانا کہ اللہ نے ان کو بہت کچھ دیا ہے اور قومی خزانہ عوام کے لیے خالی ہو تو ہو ان کے لیے بھرا ہوا ہے۔ ہم نہ ان کے ذاتی خزانے سے کچھ طلب کرتے ہیں نہ قومی خزانے سے کیونکہ ہمارے لیے تو وہ خالی ہی ہے۔ اس سے مانگیں کیا۔ عرض یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے بابرکت وجود سے محروم نہ رکھا کریں۔ عوامی خدمت ان کا شعار ہے۔ ہمیں ٹی وی پر اس کی جھلک دکھاتے رہا کریں۔ یہ ایک اچھی تفریح ہے۔ ہم پاکستانی جس حالت زار تک پہنچ چکے ہیں ایسے ہی اشتہاری سہاروں کی ضرورت ہے۔ اب رہا ملک اور قوم کی نجات کا مسئلہ اور اسے امریکا جیسی سفاک طاقت سے محفوظ رکھنے کا سوال تو اس کا جواب جو ہمارے پاس ہے وہ ہماری اشرافیہ اور اونچے لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اس کے باوجود اسے پیش ضرور کریں گے۔ فی الحال آیئے مل کر اپنے سیّاح حکمرانوں کی واپسی کا انتظار کریں اور ان کی خیر و عافیت کی دعا کریں۔