حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں وزیراعظم نیتن یاہو کی سنگین غفلت اور بدانتظامی سامنے آئی ہے جس پر اپوزیشن نے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس بات کا انکشاف اسرائیل کے نشریاتی ادارے ’چینل 12‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حماس کے غزہ میں سربراہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے 11 مواقع جان بوجھ کر ضائع کیے تھے۔
رپورٹ میں ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ یحییٰ السنوار کو قتل کرنے کے یہ 11 مواقع فروری اور مارچ 2023 کے دوران ملے تھے۔
انھوں نے چینل 12 کو مزید بتایا کہ ملکی داخلی سلامتی ادارے شِن بیٹ نے متعدد بار یحییٰ السنوار کی موجودگی کا مقام معلوم کرلیا تھا اور کارروائی کے لیے سفارش کی تھی۔
دفاعی عہدیدار کے بقول تاہم وزیرِاعظم نیتن یاہو نے نہ صرف یحییٰ السنوار پر حملے کی منظوری نہیں دی بلکہ اس پر باقاعدہ اجلاس بلانے سے بھی گریز کیا۔
اسرائیلی نیوز چینل کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مہینوں میں یحییٰ السنوار کی موجودگی کا سراغ لگالیا گیا تھا ان میں حماس نے اسرائیل پر تین بار راکٹ حملے کیے تھے۔
چینل 12 نے یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ برس ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اُس وقت کے شِن بیٹ سربراہ رونین بار نے یکم اکتوبر 2023 کو بھی السنوار کے خلاف کارروائی کی منظوری مانگی تھی۔
یحییٰ سنوار کو نشانہ بنانے کی یہ اجازت حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے صرف 6 دن قبل مانگی گئی تھی مگر اس درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اجازت دیدیتے تو حماس کی قیادت تل ابیب پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے اور نہ ہی یہ طوریل جنگ شروع ہوتی۔
دوسری جانب وزیرِاعظم ہاؤس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو بارہا حماس کی قیادت کے خاتمے پر زور دیتے رہے لیکن یہ سیکیورٹی قیادت تھی جس نے ایسا کرنے سے روکا۔
وزیرِاعظم ہاؤس کے بقول اس بات کی تصدیق اُن اجلاسوں کی تحریری کارروائیوں (minutes) سے ہوتی ہے جو حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے بلائے گئے تھے۔
ادھر حماس کی مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ یحییٰ السنوار کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد بھی نشانہ نہ بنانا اس بات کی غماز ہے کہ آنکھوں پر پردہ پڑ گیا تھا اور یہ ایک معجزہ ہی ہے۔
یاد رہے کہ یحییٰ السنوار 2017 سے غزہ میں حماس کے سربراہ تھے اور اسرائیل کے بقول وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے منصوبہ ساز تھے۔
حماس کے اسرائیل پر اس حملے میں تقریباً 1500 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا اور اس کے بعد ہی ایک ہولناک جنگ کا آغاز ہوا تھا۔
تاہم اسرائیلی فوج ایک کارروائی کے دوران یحییٰ السنوار کو اکتوبر 2024 میں رفح کے علاقے میں قتل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
پھر حماس کی قیادت سنبھل نہ پائی، محض ایک سال بعد اکتوبر 2025 میں جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا اور اب غزہ میں امریکی سربراہی میں حماس کی جگہ ٹیکنوکرٹس کی حکومت بنائی جا رہی ہے۔