نیوزی لینڈ کی گلوکارہ نے فلسطینیوں پر مظالم کیخلاف اسرائیل میں کنسرٹ منسوخ کردیا

ویب ڈیسک  منگل 26 دسمبر 2017
کنسرٹ کافیصلہ درست نہیں تھا، آگاہی میں اضافےکاشکریہ؛ گلوکارہ لورڈ؛ فوٹوفائل

کنسرٹ کافیصلہ درست نہیں تھا، آگاہی میں اضافےکاشکریہ؛ گلوکارہ لورڈ؛ فوٹوفائل

نیوزی لینڈ: نامور پاپ گلوکارہ لورڈ نے فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف اسرائیل میں کنسرٹ منسوخ کردیا۔

اسرائیل کی جانب سے بے گناہ فلسطینیوں پر کیےجانے والے مظالم سے پوری دنیا واقف ہے اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا سفارتی خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کے بعد فنکار برادری کی جانب سے بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ نیوزی لینڈ کی پاپ گلوکارہ لورڈ نے بھی اسرائیل میں ہونے والا اپنا کنسرٹ منسوخ کردیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: فلسطینیوں سے ناانصافی پر مشہور امریکی ماڈل رو پڑی

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گلوکارہ لورڈ نے ایک ہفتے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ جون میں اسرائیل میں تل ابیب کنونشن سینٹر میں کنسرٹ کریں گی لیکن یورپ میں جاری بائیکاٹ، ڈائیوسمنٹ سینکشن (بی ڈی ایس) مہم میں شامل افراد کی تنقید کے بعد لورڈ نے اسرائیل میں ہونے والا کنسرٹ منسوخ کردیا۔ بی ڈی ایس مہم میں شامل لوگوں اور مداحوں کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط میں انہیں اسرائیل کی بربریت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا تھاکہ ناانصافی کو چیلنج کریں اور ترقی پسند نیوزی لینڈ کی میراث کا خیال کریں۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی، عصبیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے لہٰذا آپ یہ کنسرٹ نہ کریں۔

لورڈ نے کنسرٹ منسوخ کرنے کے بعد ٹوئٹ کیا، درست فیصلہ یہی ہے کہ کنسرٹ منسوخ کردوں، آگاہی میں اضافے کا شکریہ ہر وقت سیکھنے کے مراحل میں ہوں۔

https://twitter.com/lorde/status/943677206558994432

لورڈ کے کنسرٹ منسوخ کرنے کے بعد کچھ مداحوں نے ان سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا جب کہ اسرائیلی وزیر ثقافت نے بھی لورڈ سے کنسرٹ منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، ڈائیوسمنٹ سینکشن (بی ڈی ایس)مہم جاری ہے جس کا مقصد اسرائیل کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اس  پر فلسطین کے معاملے پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی گلوکار نے اسرائیل میں کنسرٹ منسوخ کیا ہو بلکہ لورڈ سے پہلے گلوکار ایلوس کاسٹیلو، لارین ہل اور گوریلاز بھی شوز منسوخ کرچکے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔